افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، خواجہ آصف
- مذاکرات میں تعطل کی ذمہ دار افغان حکومت ہے، وزیر دفاع
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مذاکرات میں تعطل کی ذمہ دار افغان حکومت ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکام پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے غلط استعمال کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں دے رہے۔ افغان حکومت کو پاکستان میں امن کو نقصان پہنچانے والی تنظیموں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان سرحدی علاقوں سے تنظیموں کی دراندازی کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی طرف سے تحریری ضمانت خطے میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
بی آر رپورٹر کے مطابق اس سے قبل پاکستان نے کہا تھا کہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات استنبول میں شروع ہوئے ہیں اور مذاکرات میں تعطل کے بارے میں افغان اکاؤنٹس سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے غلط ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات جاری ہیں اور وہ پاکستان کے موقف کی تائید کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مطالبہ ہے کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج اور ان کے معاونین کو پاکستانی سرزمین پر حملوں کی اجازت نہ دی جائے۔
پاکستانی فوجیوں کی غزہ میں تعیناتی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے حصے کے طور پر فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا اور حکومت کے بعض حلقے پارلیمنٹ کی منظوری پر زور دے رہے ہیں۔
دوحہ میں عالمی سربراہی اجلاس میں صدر آصف علی زرداری نے زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام دہائیوں سے ”بھارتی ریاستی دہشت گردی“ کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر نے بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی جان بوجھ کر پامالی کرنے کا الزام عائد کیا اور اسے علاقائی استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا، ایسا عمل جو لاکھوں پاکستانیوں کو پانی اور روزگار کے حق سے محروم کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان غزہ امن منصوبے کے 8 عرب اسلامی ممالک میں سے ایک کے طور پر سرگرم عمل ہے اور فلسطین کے لیے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد ریاست کے قیام کے موقف کی تصدیق کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
بھارتی میڈیا کی جھوٹی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندو برادری کے افراد کو پاکستان میں داخلے سے نہیں روکا گیا تاہم تقریباً 300 پاکستانی ویزا ہولڈرز کو بھارتی حکام نے سرحد عبور کرنے سے روکا۔
ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کی جانب سے مار گرائے گئے بھارتی طیاروں کے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ فضائی جنگ کی یہ تاریخ پاکستان کی بہادر فضائیہ کے شاندار کارنامے کا حصہ ہے اور صدر ٹرمپ نے اس تنازع میں مثبت کردار ادا کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025