بی آر ریسرچ

بل ڈسکاؤنٹنگ، کیا کرنسی گرنے کا انتظار ہے؟

  • ایکسچینج ریٹ طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے جس نے اپنی ساکھ کھو دی ہے
شائع November 7, 2025 اپ ڈیٹ November 7, 2025 11:05am

گزشتہ تقریباً دو سال سے کرنسی کو ایک مختصر زنجیر میں جکڑ کر رکھا گیا ہے: بظاہر مستحکم، لیکن درحقیقت سخت نگرانی میں۔ ایکسپورٹرز وہی دیکھ رہے ہیں جو چارٹس پہلے ہی ظاہر کر رہے ہیں ایک ایسا ایکسچینج ریٹ جو اتنے عرصے سے جمود کا شکار ہے کہ اس نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔

یہ طرزِ عمل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ برآمدی شپمنٹس شاید ابھی تک فری فال میں نہیں ہوں، لیکن فارن بل ڈسکاؤنٹنگ بدستور کمزور ہے۔ گزشتہ بارہ مہینوں میں کل برآمدات بمشکل دو فیصد بڑھی ہیں۔ اسی دوران ٹیکسٹائل بل ڈسکاؤنٹنگ میں نو فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ نان ٹیکسٹائل ڈسکاؤنٹنگ ایک تہائی تک گر گئی ہے۔

ڈسکاؤنٹنگ اور ایکسپورٹس کا تناسب 14 فیصد تک پھیل چکا ہے۔ یہ لیکویڈیٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک غیرمعینہ تعطل ہے۔ ایکسپورٹرز ڈالرز روک کر بیٹھے ہیں کیونکہ ان کا یقین ہے کہ جلد یا بدیر کرنسی کو ایڈجسٹ ہونا ہی ہے ۔

قلیل مدتی اعدادوشمار بھی یہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران مجموعی برآمدات میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی آئی، جبکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس بمشکل ایک فیصد بڑھی ہیں۔ اسی طرح ڈسکاؤنٹنگ والیومز جمود کا شکار ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ ایکسپورٹرز مقامی مارکیٹ میں ڈالر تبدیل کرنے کے بجائے غیرملکی ذرائع سے فنانسنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

چھ ماہ کی اوسط بھی یہی پیغام دیتی ہے: رسیدیں جمود میں ہیں، مگر ڈالر سے الگ ہونے کا رجحان اس سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ جو کبھی ہچکچاہٹ لگتی تھی، اب ممکنہ طور پر ایک مضبوط پوزیشن بن چکی ہے۔ افراطِ زر دوبارہ بڑھنے لگا ہے، پالیسی ریٹ جمود کا شکار ہے، اور انتظامی کنٹرولز کرنسی کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں ایسے میں ایکسپورٹرز وہی کر رہے ہیں جو ایک منظم نظام میں عقلمند لوگ کرتے ہیں: وہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب بند ٹوٹے گا۔

اثرات پہلے ہی واضح ہیں۔ ایکسپورٹرز قیاس آرائی نہیں کر رہے، بلکہ اپنی قدر کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آج ڈالر بیچنا اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتا جب تک مستقبل میں زیادہ ریٹ کی توقع ہو۔ مارکیٹ کے شرکا خاص طور پر اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ کرنسی کی قیمت غلط طے کی گئی ہے۔

پالیسی سازوں کا فطری رجحان مگر اب بھی نصیحت کرنے کا ہے۔ ریاستی ادارے کرنسی کے غیر رسمی مارکیٹ پر دباؤ ڈالتے ہیں، انہیں فارن ایکسچینج لیکویڈیٹی واپس کرنے پر اکساتے ہیں، اور استحکام کے نام پر ریٹ کو قابو میں رکھتے ہیں۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی استحکام ڈالر کی تبدیلی کو روک دیتا ہے۔ ایک ایسا ریٹ جو کسی بھی سمت حرکت نہ کرے، اپنی معلوماتی قدر کھو دیتا ہے۔ جب مارکیٹ قیمت پر یقین کھو دیتی ہے، تو شرکت کرنا چھوڑ دیتی ہے۔

اس میں کوئی راز نہیں۔ ایک ایسی کرنسی جو چوبیس ماہ میں بمشکل ہلی ہو، حالانکہ دوہرے ہندسوں کی افراطِ زر اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ موجود ہوں، وہ فطری طور پر زیادہ کنٹرول شدہ ہے۔ ایکسپورٹرز یہ جانتے ہیں۔ امپورٹرز بھی جانتے ہیں۔ صرف وہی لوگ انجان بنے ہوئے ہیں جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آپٹکس حساب کتاب سے زیادہ دیر چل سکتے ہیں۔

جب ایڈجسٹمنٹ آئے گا جیسا کہ ہمیشہ آتا ہے تو یہی ایکسپورٹرز اچانک ڈالر واپس لانے والے محبِ وطن قرار دیے جائیں گے۔ تب تک، اعدادوشمار وہی بتاتے رہیں گے جو اب دکھا رہے ہیں: ڈسکاؤنٹنگ والیومز میں مسلسل کمی، فارورڈ پریمیم کا سکڑاؤ، اور فعال تجارت کے باوجود کمزور رسیدیں۔

روپے کا سب سے بڑا مسئلہ قیاس آرائی نہیں بلکہ اعتماد کی عدم موجودگی ہے۔ ایکسپورٹرز اپنے وقت کے انتخاب سے ووٹ ڈال رہے ہیں، یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ایک کرنسی جو بہت زیادہ عرصے تک مصنوعی طور پر مستحکم رکھی گئی ہو، وہ اب قابلِ اعتبار نہیں رہی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پالیسی ساز مارکیٹ کی اصلاح سے پہلے یہ اشارہ سمجھتے ہیں یا نہیں یہی واحد معمہ باقی ہے۔