پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ایک بار پھر امن مذاکرات کا آغاز
- دوحہ میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی معاہدہ ہوا مگر گزشتہ ہفتے استنبول میں مذاکرات طویل المدتی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے تھے
پاکستان اور افغانستان نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک جمعرات کو استنبول میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے ، گزشتہ مرحلہ کسی پائیدار جنگ بندی کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
گزشتہ ماہ جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ، یہ 2021 میں طالبان کے کابل میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے سب سے شدید جھڑپیں تھیں۔
دونوں فریقوں نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم گزشتہ ہفتے استنبول میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات ایک طویل المدتی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، کیونکہ پاکستان کے لیے مخالف شدت پسند گروہوں کی افغانستان میں موجودگی پر اختلافات برقرار رہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دانشمندی غالب آئے اور خطے میں امن بحال ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے اور وہ یہ ہے کہ افغانستان کو اس بات پر قائل کرنا کہ وہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں حملے کرنے والے شدت پسندوں کو جو مبینہ طور پر طالبان کی اطلاع یا مدد سے سرگرم ہیں قابو میں لائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت فوج کے انٹیلی جنس وِنگ کے سربراہ عاصم ملک کر رہے ہیں۔
افغان وفد کی قیادت انٹیلی جنس کے سربراہ عبدالحق واثق کریں گے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی اے کو بتایا۔
تشدد کی تکرار کو روکنے کی کوششوں پر مذاکرات
پاکستان اور طالبان کے درمیان کئی دہائیوں تک قریبی تعلقات رہے، تاہم حالیہ برسوں میں تعلقات میں نمایاں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ طالبان، پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رہے ہیں ، یہ ایک الگ عسکریت پسند گروہ ہے جو پاکستانی فوج کے ساتھ متعدد جھڑپوں میں ملوث رہا ہے۔
کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس گروہ پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں۔
اکتوبر کی جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان نے ماہ کے اوائل میں کابل سمیت افغانستان کے مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے، جن کا ہدف پاکستانی طالبان کا سربراہ بتایا گیا۔
افغان طالبان انتظامیہ نے اس کے جواب میں 2,600 کلومیٹر طویل سرحد پر پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملے کیے، جس کے بعد تجارتی سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔
جنگ بندی کے دوران بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور دونوں جانب متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔