کمزور طلب اور وافر فراہمی، خام تیل کی قیمتیں مستحکم
- برینٹ کروڈ فیوچرز جمعرات کی صبح 2 سینٹ یا 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 63.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی تھیں
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً مستحکم رہیں، اگرچہ گزشتہ روز یہ دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق کمزور طلب اور عالمی سطح پر تیل کی وافر فراہمی کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز جمعرات کی صبح 2 سینٹ یا 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 63.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی تھیں، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے بغیر کسی تبدیلی کے 59.60 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہے۔
بینک جے پی مورگن کے مطابق رواں سال اب تک (4 نومبر تک) عالمی سطح پر تیل کی طلب میں روزانہ 8 لاکھ 50 ہزار بیرل اضافہ ہوا ہے، جو پہلے کے 9 لاکھ بیرل یومیہ اضافے کے تخمینے سے کچھ کم ہے۔ بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکہ میں تیل کی کھپت اب بھی کمزور ہے، جس کی بڑی وجہ سفر میں کمی اور کنٹینر شپمنٹس میں کمی ہے۔
گزشتہ روز امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے خام تیل کے ذخائر گزشتہ ہفتے 52 لاکھ بیرل بڑھ کر 421.2 ملین بیرل ہو گئے، جب کہ مارکیٹ میں صرف 6 لاکھ 3 ہزار بیرل اضافے کی توقع تھی۔
تحقیقی ادارے کیپیٹل اکنامکس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے اور ان کے مطابق 2025 کے اختتام تک عالمی تیل کی اوسط قیمت 60 ڈالر فی بیرل اور 2026 کے اختتام تک 50 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔
اکتوبر میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے مہینے کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافہ اور نان اوپیک ممالک کی جانب سے مسلسل بڑھتی ہوئی فراہمی بتائی گئی ہے۔