غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی بحالی کا نوٹس لے رہے ہیں، خرم شہزاد
- بڑھتا اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات اور بحالی کی سمت واضح ہے، مشیر خزانہ
وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی بنیادی ساختی اصلاحات اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے پرسپشن اینڈ انویسٹمنٹ سروے 2025 کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔
بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خرم شہزاد نے کہا کہ سروے کے نتائج میں حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں جن سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
سروے کے مطابق اس وقت 73 فیصد غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں ملک قرار دے رہے ہیں جو دو سال قبل 61 فیصد تھی۔
خرم شہزاد کے مطابق یہ بڑھتا ہوا اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات اور بحالی کی سمت واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی کے استحکام، کم افراطِ زر، بہتر مالی نظم، قابو میں رہنے والی مانیٹری و بیرونی صورتحال، اور عالمی سطح پر اس کی تصدیق نے سرمایہ کاروں کے اطمینان میں اضافہ کیا ہے۔
مشیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے تسلسل پر پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق، توانائی اخراجات میں کمی، شرحِ سود میں نصف کمی، ٹیکس اصلاحات اور ریگولیٹری بہتری جیسے اقدامات نے معیشت میں نئی جان ڈال دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کی قیمت 38 روپے سے کم کر کے 23 روپے فی یونٹ کر دی گئی ہے جبکہ شرحِ سود میں نمایاں کمی سے سرمایہ کاروں کو مالی وسائل تک زیادہ آسان اور سستی رسائی حاصل ہوئی ہے۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو اس انداز میں تشکیل دے رہی ہے جو باقاعدہ معیشت کے فروغ میں مددگار ہو جبکہ ٹیکس ادائیگی کے عمل میں شفافیت اور دائرہ کار کے پھیلاؤ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منظوری اور لائسنس کے اجرا کا عمل برسوں سے کم ہو کر چند ہفتوں میں مکمل ہو رہا ہے جس سے کاروباری ماحول مزید مستحکم اور قابلِ پیش گوئی بنتا جا رہا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت مزید بہتری کے لیے پُرعزم ہے۔ اخراجات میں کمی، کاروبار میں آسانی اور جاری ساختی اصلاحات معیشت میں پائیدار ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔