امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ رابطے اور دونوں ممالک کی تجارتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی تجارتی ٹیم بھارت کے ساتھ انتہائی سنجیدہ بات چیت کر رہے ہیں۔ صدر کو وزیراعظم مودی کا بہت احترام ہے اور دونوں کے درمیان اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جو حالیہ برسوں میں کئی دہائیوں کی نچلی سطح تک پہنچ گئے تھے۔
تعلقات میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی درآمدات پر ٹیرف دوگنا کر کے 50 فیصد کر دیا۔ امریکہ نے یہ اقدام بھارت کی روسی تیل کی خریداری کے خلاف سزا کے طور پر کیا تھا۔
ادھر امریکی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے روسی تیل کی درآمدات میں واضح کمی کی ہے۔ واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے ماسکو کی دو بڑی خام تیل برآمد کرنے والی کمپنیوں، روسنیفٹ اور لوک آئل پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف دونوں معیشتوں کے لیے مثبت پیشرفت ہوگی بلکہ جیوپولیٹیکل توازن میں بھی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔