بی آر ریسرچ

کور انفلیشن پھر بڑھنے لگی

شائع November 4, 2025 اپ ڈیٹ November 4, 2025 11:09am

ہیڈ لائن مہنگائی کی شرح ایک مرتبہ پھر بڑھنے لگی ہے حالانکہ مقامی کرنسی مستحکم ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ اپریل میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 0.3 فیصد تک گر گیا تھا، مگر اس کے بعد سے یہ دوبارہ بڑھ رہا ہے اور اکتوبر 2025 میں 6.2 فیصد تک جا پہنچا، جو نومبر 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ جولائی تا اکتوبر ماہانہ بنیاد پر مہنگائی اوسطاً 1.5 فیصد رہی۔ اگر یہ رجحان نہ رکا تو مہنگائی دوبارہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔

حال ہی میں مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ جلد خراب ہونے والی اشیا ہیں، بالخصوص ٹماٹر (اربن علاقوں میں 48 فیصد ماہانہ) جو سیلاب کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹوں سے متاثر ہوئے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ یہ دباؤ پہلے ہی کم ہونا شروع ہوگیا ہے اور مزید کمی کا امکان ہے۔ تاہم گزشتہ چند ماہ میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو بظاہر واپس نہیں جائے گا۔

مجموعی طور پر خوراک کی مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 2.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ 5.6 فیصد رہا۔ بلند بنیادی اثر کی وجہ سے خوراک کی مہنگائی حالیہ دباؤ کے باوجود قابو میں نظر آ رہی ہے۔ شہری علاقوں میں ڈبل ڈیجیٹ ماہانہ اضافہ ٹماٹر (59 فیصد)، پیاز (19 فیصد) اور تازہ سبزیوں (12 فیصد) میں دیکھا گیا۔

تشویش ناک پہلو کور انفلیشن میں اضافہ ہے، جو اکتوبر میں 7.9 فیصد ریکارڈ ہوئی جبکہ ستمبر میں یہ 7.3 فیصد تھی۔

کور انفلیشن کا رجحان اب بدل رہا ہے، مالی سال 2024 کے آغاز سے یہ مسلسل کمی کی جانب گامزن تھی، مگر اب ایسا نہیں۔ اگست میں یہ 7.2 فیصد کی کم ترین سطح پر پہنچی تھی، جو اکتوبر میں بڑھ کر 7.9 فیصد ہوگئی۔ ماہانہ بنیاد پر اس میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔

کور انفلیشن میں دباؤ ظاہر کرتا ہے کہ اجرتی مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ شہری معیشت کے شعبوں میں معمولی بحالی کے ساتھ شہری علاقوں میں اجرتیں اوپر جا رہی ہیں، جو کور انفلیشن پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

اگرچہ دیہی علاقوں میں کور انفلیشن 8.4 فیصد ہے جو شہری علاقوں (7.5 فیصد) سے زیادہ ہے، تاہم دیہی و شہری کور انفلیشن کے درمیان فرق کم ہو رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں یہ فرق 3.1 فیصد تھا جو اکتوبر 2025 میں گھٹ کر 0.9 فیصد رہ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری علاقوں میں طلب پر مبنی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تعلیم اور متفرق شعبوں میں سی پی آئی مہنگائی ڈبل ڈیجیٹ کی سطح پر ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی یہ تقریباً اسی سطح کے قریب ہے۔ دوسری جانب دو بڑے شعبے، خوراک (5.6 فیصد) اور رہائش و یوٹیلیٹیز (4.2 فیصد)، سالانہ بنیاد پر نسبتاً کم مہنگائی ظاہر کر رہے ہیں، حالانکہ ماہانہ بنیاد پر ان میں اضافہ بالترتیب 2.7 فیصد اور 2.2 فیصد رہا۔ سالانہ سطح پر کم اضافہ دراصل موافق بیس ایفکیٹ کا نتیجہ ہے۔

بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 8.8 فیصد اضافہ ہوا جو ماہرین کی توقعات سے زیادہ ہے، اور امکان ہے کہ آئندہ ماہ بھی یہ بلند رہے گی کیونکہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس (کیو ٹی اے) نافذ ہوں گے۔ خوراک کے علاوہ شعبوں میں دیگر نمایاں اضافوں میں گھر کے کرایوں کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، ٹرانسپورٹ خدمات اور ڈاک کے نرخ شامل ہیں۔

اس صورتحال میں اشارے ملے جلے ہیں، خوراک کی مہنگائی قابو میں رہنے کا امکان ہے؛ تاہم اجرتوں کے دباؤ اور مجموعی طلب میں معمولی اضافے کے باعث کور انفلیشن بلند رہ سکتی ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں اوسط مہنگائی محض 4.7 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 28.5 فیصد کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اندازوں کے مطابق رواں مالی سال کے لیے مہنگائی 5 سے 7 فیصد کی درمیانی مدت کی حد میں رہے گی، تاہم مہنگائی بڑھنے کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔

لہٰذا، مہنگائی کی توقعات کو مستحکم رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی اعلیٰ حقیقی سود کی شرح برقرار رکھنے کی پالیسی مناسب ہے، اور جب تک ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ قابو میں نہیں آتا، پالیسی ریٹ میں مزید کمی کے امکانات کم ہیں۔