دنیا

اسرائیلی فضائی حملوں میں 104 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرے گی، جب کہ محصور علاقے کے محکمہ صحت کے...
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرے گی، جب کہ محصور علاقے کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق فضائی حملوں میں 104 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

اسرائیل نے منگل کی رات غزہ پر فضائی حملے کیے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ حماس کے ایک حملے میں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ یہ واقعہ پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر کاربند رہے گی، لیکن کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دے گی۔

جنگ بندی خطرے میں نہیں، ٹرمپ کا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی خطرے میں نہیں ہے، اگرچہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے کو معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 104 افراد شہید ہوئے، جن میں پانچ افراد وہ بھی شامل ہیں جو وسطی غزہ کے بریج کیمپ میں ایک گھر پر حملے میں شہید ہوئے، چار غزہ سٹی کے سبرا محلے میں ایک عمارت میں شہید ہوئے، جب کہ پانچ افراد خان یونس میں ایک گاڑی میں نشانہ بنے۔

ٹرمپ نے ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جیسا کہ میری سمجھ میں آیا ہے حماس نے ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک کیاہے، لہٰذا اسرائیلیوں نے جوابی کارروائی کی اور انہیں کرنی بھی چاہیے تھی۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کو فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ کچھ بھی جنگ بندی کو خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ حماس مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے اور انہیں مناسب رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

** حماس نے پیلی لائن کے اندر حملہ کیا ، اسرائیل کا دعویٰ **

کچھ بے گھر فلسطینیوں نے خوف ظاہر کیا کہ جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب ہے۔ 40 سالہ اسماعیل زیدہ، جو تین بچوں کے والد ہیں نے بتایا کہ رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، ایک ایسا منظر جو انہیں اس جنگ کی یاد دلاتا ہے جس نے ہزاروں زندگیاں نگل لی ہیں۔

انہوں نے رائٹرز سے چیٹ ایپ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ جنگ بندی کے بعد کی بدترین راتوں میں سے ایک تھی۔ دھماکوں اور طیاروں کی آوازوں نے ایسا احساس دلایا جیسے جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہو۔

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے الزام لگایا کہ حماس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا جو متعین پیلی لائن کے اندر تعینات تھے، وہ علاقہ جو جنگ بندی کے معاہدے کے تحت طے پایا تھا۔

یہ معاہدہ 10 اکتوبر کو نافذ ہوا، جس کے تحت دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت روک دی گئی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ (حماس) اچھا رویہ اختیار کریں گے تو خوش رہیں گے، ورنہ ان کی زندگی ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کوئی نہیں جانتا کہ اسرائیلی فوجی کے ساتھ کیا ہوا، لیکن کہا جا رہا ہے کہ وہ اسنائپر حملے میں مارا گیا اور یہ (فضائی حملے) اسی کا بدلہ تھے اور میرے خیال میں یہ ان کا حق ہے۔

حماس نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں اسرائیلی فوج پر حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر بدستور عمل پیرا ہے۔

معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی

معاہدے کے مطابق حماس نے تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا، جس کے بدلے میں اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں اور جنگی قیدیوں کو آزاد کیا اور اپنی فوجی کارروائیاں بند کر دیں۔

حماس نے ان تمام یرغمالیوں کی باقیات بھی واپس کرنے پر اتفاق کیا ہے جن کی لاشیں ابھی تک برآمد نہیں ہوئیں، تاہم اس کا کہنا ہے کہ ان باقیات کو تلاش کرنے میں وقت لگے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس زیادہ تر لاشوں تک رسائی موجود ہے۔

یہ معاملہ جنگ بندی کے سب سے حساس نکات میں سے ایک بن گیا ہے جسے ٹرمپ قریبی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ پیر کی رات حوالے کی جانے والی انسانی باقیات ایک ایسے اسرائیلی کی ہیں جو 7 اکتوبر کے حماس کے حملے میں مارا گیا تھا اور اس کی لاش ابتدائی جنگ کے دنوں میں ہی برآمد ہو گئی تھی۔

اسرائیلی فوج نے الزام لگایا کہ حماس نے لاش کو ایک کھدائی کی جگہ پر دفن کیا اور بعد میں ریڈ کراس ٹیم کو بلا کر یہ ظاہر کیا کہ انہوں نے ایک لاپتا یرغمالی کی لاش برآمد کی ہے ، تاکہ عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔

فوج کی جانب سے جاری کردہ 14 منٹ کی ویڈیو میں تین افراد کو ایک سفید تھیلا زمین میں دفن کرتے اور مٹی ڈال کر ڈھانپتے ہوئے دکھایا گیا۔

رائٹرز نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی، تاہم وہ ویڈیو کی تاریخ یا اسرائیلی دعوے کی سچائی کی تصدیق نہیں کر سکا جب کہ حماس نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے کہا کہ ان کی ٹیم کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ باقیات پہلے سے وہاں رکھی گئی تھیں۔

ریڈ کراس نے اپنے بیان میں کہا یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ایک جعلی برآمدگی کا منظر بنایا گیا، خاص طور پر اس وقت جب اس معاہدے کی پاسداری پر سب کچھ منحصر ہے اور درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی خبریں سننے کے منتظر ہیں۔