وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا ہے جس میں پاکستان کی صنعتی ترقی کی بنیاد چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے فروغ، خصوصاً کاٹیج انڈسٹریز کی بحالی پر رکھی گئی ہو۔ اُن کا یہ ویژن، جو ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں پیش کیا گیا، ساختی اور ریگولیٹری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ ایس ایم ایز کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔ یہی وژن ملک کے معاشی مستقبل کو تشکیل دے گا، ایک متحرک، جامع اور جدید کاروباری ماحول پیدا کرے گا جو جدت اور شمولیت دونوں کو فروغ دے۔
دنیا بھر کی معیشتوں میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ملک میں 90 فیصد سے زائد کاروبار ایس ایم ای کیٹیگری میں آتے ہیں، جو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور جدت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اپنی نمایاں شراکت کے باوجود، جو پاکستان کے جی ڈی پی اور روزگار میں اہم حصہ ڈالتی ہے، ایس ایم ایز کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ، جن میں فنانسنگ تک محدود رسائی، پیچیدہ ضوابطی نظام، اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی شامل ہے۔
وزیرِاعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کی صنعتی ترقی اُس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک ایس ایم ایز، خصوصاً کاٹیج انڈسٹریز، کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار نہ لایا جائے۔ یہ چھوٹی صنعتیں، جو زیادہ تر دیہی علاقوں میں واقع ہیں، علاقائی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ محنت طلب شعبہ ہیں جنہیں جدید معیشت میں ترقی کے لیے توسیع اور باضابطہ حیثیت دینے میں حکومتی معاونت کی ضرورت ہے۔
وزیرِاعظم کی جانب سے ایک اہم اقدام ایس ایم ایز اور کاٹیج انڈسٹریز کی باضابطہ رجسٹریشن کا عمل ہے۔ فی الوقت پاکستان میں بڑی تعداد میں کاروبار غیر رسمی طور پر کام کر رہے ہیں، جس کے باعث اُنہیں مالی وسائل، قانونی تحفظ، اور منظم منڈیوں تک رسائی حاصل نہیں۔ وزیرِاعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ رجسٹریشن کے عمل کو تیز کریں تاکہ ایس ایم ایز کو ترقی، جدت اور منڈیوں میں وسعت کے لیے درکار سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس سے اُنہیں مالی وسائل تک بہتر رسائی، قانونی تحفظ اور حکومتی مراعات حاصل ہوں گی۔
سمیڈا یعنی اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے اور ایس ایم ایز کو باضابطہ حیثیت دینے کا واضح منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت آئے گی اور معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔ ان کوششوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سمیڈا اپنے عملے کی استعداد کار میں اضافہ کرے تاکہ وہ ایس ایم ایز کی مؤثر رہنمائی اور معاونت کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کے ماہرین، خاص طور پر ٹیکسٹائل، ٹیکنالوجی، اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں سے، شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ ایس ایم ایز کے لیے فراہم کی جانے والی تربیت اور مشاورتی خدمات مؤثر اور معیاری ہوں۔
حکومت کی ایس ایم ایز کو باضابطہ کرنے کی مہم میں دیہی صنعتوں، خصوصاً زرعی کاروباروں، پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ دیہی ایس ایم ایز کو ویلیو ایڈڈ ایگریکلچرل پروسیسنگ میں شامل کر کے حکومت خام زرعی مصنوعات کو زیادہ قیمت والے تجارتی مال میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس سے ان کاروباروں کی منافع بخشی میں اضافہ اور عالمی سطح پر مسابقت میں بہتری آئے گی۔
دیہی ایس ایم ایز کے لیے مزید مدد کے طور پر برآمدی کارکردگی سے منسلک ٹیکس ریبیٹس اور سولر انرجی کے استعمال کی ترغیب دینے کے اقدامات زیر غور ہیں۔ چونکہ دیہی کاروباروں کو توانائی کی فراہمی کے مسائل درپیش ہیں، اس لیے شمسی توانائی کے استعمال سے وہ لاگت میں کمی، کارکردگی میں بہتری اور پائیداری حاصل کر سکیں گے۔
وزیرِاعظم کے اقدامات میں خواتین تاجروں کے بااختیار بنانے پر بھی خاص زور شامل ہے۔ اس سلسلے میں ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے چلنے والا پلیٹ فارم متعارف کرایا جا رہا ہے جو خواتین کو کاروبار کے اندراج، ٹیکس کمپلائنس، اور مہارت کے فروغ میں معاونت فراہم کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے کے لیے ضروری وسائل اور رہنمائی فراہم کرے گا ،جو پاکستان میں زیادہ جامع اور متنوع صنعتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے نہایت اہم قدم ہے۔
ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی اور جدت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے ایس ایم ای ایکو سسٹم میں جدید ٹیکنالوجی کے آلات کے انضمام پر توجہ مرکوز کی ہے۔ سمیڈا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ علم کی منتقلی کو فروغ دے اور ایسی تربیت فراہم کرے جو ایس ایم ایز کو کاروباری نظم و نسق اور ای۔کامرس کے جدید ڈیجیٹل ٹولز اپنانے میں مدد دے۔ خواتین کے ٹیلنٹ کو ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ کے ذریعے فروغ دینے اور ایس ایم ایز میں خواتین کی ملازمت کو مراعات دینے کے اقدامات سے حکومت کا مقصد ایک بااختیار اور ڈیجیٹل طور پر مہارت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
برآمدی سب کانٹریکٹنگ کی جانب حکومتی توجہ بھی ایک اہم اقدام ہے۔ اس کے ذریعے ایس ایم ایز کو بڑی کمپنیوں اور عالمی منڈیوں سے منسلک ہونے کا موقع ملتا ہے، جس سے انہیں بین الاقوامی سپلائی چینز تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ اشتراک پیداواریت بڑھانے کے ساتھ ایس ایم ایز کو عالمی تجارتی ضوابط پر پورا اترنے میں مدد دے گا، جن میں یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم (سی بی اے ایم) بھی شامل ہے۔ ان روابط کو فروغ دے کر سمیڈا کا مقصد ایس ایم ایز کی منافع بخشیت اور کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بن سکیں۔
ایک مضبوط ایس ایم ای ایکو سسٹم تشکیل دینے کا ایک کلیدی عنصر پاکستان کی ایز آف ڈوئنگ بزنس درجہ بندی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ درجہ بندی اس بات کا پیمانہ ہے کہ کسی ملک میں کاروبار شروع کرنا اور چلانا کتنا آسان یا مشکل ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اس حوالے سے کچھ پیش رفت کی ہے، مگر عالمی سطح پر اس کی پوزیشن ابھی بھی کمزور ہے۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستان اس فہرست میں 108ویں نمبر پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری ضوابط کو آسان بنانے، مالی وسائل تک رسائی بہتر کرنے، اور ایس ایم ایز کی معاونت کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ حکومت کے وژن کو کامیابی سے حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ریگولیٹری عمل کو مزید سادہ بنایا جائے، مالیاتی سہولیات تک آسان رسائی دی جائے، اور کاروبار دوست ماحول کو فروغ دیا جائے۔
ڈی۔ایٹ سمٹ، جس میں پاکستان سمیت سات ترقی پذیر ممالک شامل ہیں، صنعتی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ اجلاس اقتصادی تعاون، تجارت، اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔ اس فریم ورک میں فعال شمولیت کے ذریعے پاکستان ان ممالک کے ساتھ شراکت داریوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تاکہ ایس ایم ایز کو بین الاقوامی تجارت میں شامل کیا جا سکے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ تعاون سرحد پار کاروباری مواقع پیدا کرنے، روزگار بڑھانے اور پاکستان کے صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات کہ پاکستان کے ایس ایم ای اور کاٹیج انڈسٹری ایکو سسٹم کو بااختیار اور باضابطہ بنایا جائے، ملک کے صنعتی مستقبل کے لیے ایک واضح اور جرات مندانہ وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے، مالی معاونت فراہم کرنے، خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے، اور جدید ٹیکنالوجیز اپنانے کے اقدامات کے ذریعے حکومت ایک ایسا ایس ایم ای ایکو سسٹم تشکیل دینا چاہتی ہے جو جدت، روزگار اور معاشی ترقی کو آگے بڑھائے۔
ایس ایم ایز خاص طور پر دیہی اور کاٹیج انڈسٹریز کی معاونت، صنعتی ترقی کو تحریک دینے اور پاکستان کی معیشت کو زیادہ جامع اور پائیدار بنانے کی کلید ہے۔ اس وژن کو حاصل کرنے کے لیے سمیڈا کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے، جدید آلات جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے، اور اپنے عملے کی تربیت و ترقی پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔
اعلیٰ کارکردگی والے ایس ایم ایز کے درمیان خیالات کے تبادلے کے لیے کاروباری فورمز کا قیام اور دیہی علاقوں میں ایس ایم ای ایمبیسیڈرز کی تقرری سمیڈا کی موجودگی کو مزید مستحکم کرے گی۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور دیگر متعلقہ علاقوں میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے کر سمیڈا پاکستان کے صنعتی مستقبل کی تشکیل میں ایک مضبوط کردار ادا کر سکے گا۔ تبھی سمیڈا حکومت کے خوشحال صنعتی شعبے کے وژن کو پوری طرح عملی شکل دینے کے قابل ہو گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025