وینزویلا نے اتوار کے روز اپنے پڑوسی ملک ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) پر فوجی اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے، جس کا مقصد لاطینی امریکی ملک کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کو ہوا دینا ہے۔
وینزویلا کی حکومت کے مطابق امریکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں اس وقت کیریبین سمندر میں جاری ہیں، اور اس دوران وینزویلا نے ایسے کرائے کے فوجی گرفتار کیے ہیں جن کے پاس امریکی خفیہ ایجنسی سے براہِ راست معلومات تھیں اور جن کا مقصد خطے میں فالس فلیگ یعنی جعلی حملہ کرنا تھا۔
حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کی سرحدی آبی حدود یا وینزویلا کے علاقے سے ایک جعلی حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ ہمارے ملک کے خلاف مکمل فوجی تصادم پیدا کیا جا سکے۔
یہ بیان وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کی جانب سے جاری کیا گیا، تاہم اس میں مزید شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے سی آئی اے کو وینزویلا میں خفیہ کارروائیاں انجام دینے کی اجازت دی ہے۔
صدر نکولس مادورو اس سے قبل بھی فالس فلیگ حملوں کے الزامات لگا چکے ہیں، جن میں اکتوبر کے اوائل میں کاراکاس میں امریکی سفارتخانے میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کی سازش شامل تھی۔
امریکی محکمۂ خارجہ اور سی آئی اے نے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دریں اثنا، پینٹاگون نے جمعے کے روز کیریبین میں اپنا فوجی دباؤ بڑھاتے ہوئے جیرا لڈ فورڈ ایئرکرافٹ کیریئر گروپ تعینات کر دیا ہے۔