کاروبار اور معیشت

پانچ سال بعد پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازیں بحال

  • مانچسٹر اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست پروازیں پی آئی اے کی ویب سائٹ یا بکنگ پارٹنرز کے ذریعے بک کروائی جاسکتی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے پانچ سال کے وقفے کے بعد برطانیہ (یو کے) کے شہر مانچسٹر کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کر دی ہیں۔

ہفتہ کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ہوا بازی خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے سخت ترین فضائی معیار پر پورا اترنے کے لیے حکومت نے “پائلٹ ٹریننگ، لائسنسنگ سسٹم، طیاروں کی دیکھ بھال اور حفاظتی طریقہ کار میں مکمل اصلاحات کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم نے اپنے معیار کو اس سطح تک بلند کیا کہ یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کو پی آئی اے پر دوبارہ اعتماد بحال کرنا پڑا۔

مانچسٹر اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست پروازیں پی آئی اے کی ویب سائٹ یا بکنگ پارٹنرز کے ذریعے بک کروائی جاسکتی ہیں جن کا کرایہ 633 پاؤنڈ (236,914 روپے) سے شروع ہوتا ہے۔

ابتدائی طور پر ہفتہ وار چار پروازیں آپریٹ کیے جانے کا امکان ہے۔ برمنگھم اور لندن سے پروازیں آئندہ مرحلے میں شروع کی جائیں گی۔

دریں اثناء،وفاقی وزیر نے برطانیہ اور یورپ بھر میں پاکستانی سفارتخانوں اور سفارتی عملے کی کوششوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھرپور انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، ضروری شواہد فراہم کیے اور مسلسل رابطے میں رہے۔ انہی کی مسلسل کوششوں کے باعث پابندیوں کے بادل چھٹے اور پی آئی اے کو اپنی معمول کی پروازیں بحال کرنے کا حق ملا۔

آصف نے کہا کہ حکومت پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ یہ قومی معیشت پر بوجھ بننے کے بجائے اس کا سہارا بنے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں 14 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ ان کی بھیجی گئی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ لہٰذا انہیں براہِ راست پروازوں کی سہولت دینا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ یہ سروسز ان کا وقت بچائے گی، مناسب کرائے فراہم کریں گی اور انہیں اپنے وطن سے براہ راست فضائی رابطہ دیں گی۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ حکومت مانچسٹر کے بعد جلد لندن اور برمنگھم کے لیے بھی براہِ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ پی آئی اے کے عالمی نیٹ ورک کی بحالی اور توسیع کے ہدف کو آگے بڑھایا جا سکے۔

واضح رہے کہ 2020 کے بعد سے لندن کے شمال میں واقع برطانوی ایئرپورٹس کے لیے پاکستان سے کوئی براہِ راست پرواز نہیں چل رہی تھی۔

پی آئی اے کی واپسی برطانوی حکومت کے اس فیصلے کے بعد ممکن ہوئی، جس کے تحت 16 جولائی کو پی آئی اے کا نام ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا گیا۔ بزنس ریکارڈر کو جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ تکنیکی آڈٹس اور ایئرلائن کے فضائی تحفظ کے معیارات میں قابلِ ثبوت بہتری کی بنیاد پر کیا گیا۔

پروازوں کی معطلی سے قبل، پی آئی اے برطانیہ کے لیے ہفتہ وار 21 پروازیں چلا رہی تھی جن میں 10 لندن، 9 مانچسٹر اور 2 برمنگھم شامل تھیں۔

براہِ راست پروازوں کی بحالی سے برطانیہ اور یورپ کا سفر کرنے والے پاکستانی مسافروں کو نمایاں سہولت ملے گی اور فضائی رابطے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔