وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت فصل 2025-26 کے دوران 8 لاکھ سے 12 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے ساتھ 55 ارب روپے کے ریلیف پیکیج میں کھاد پر سبسڈی بھی شامل ہے تاکہ بڑھتی ہوئی کاشت لاگت کو کم کیا جا سکے اور کاشتکاروں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، سردار محمد بخش مہر اور مخدوم محبوب الزمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی خریداری مارکیٹ کے استحکام اور کسانوں کو منافع خوروں سے بچانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی قیمت کسانوں کو منصفانہ منافع کی یقین دہانی کراتی ہے اور ان کی محنت کا اعتراف ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ یہ فیصلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں سے ممکن ہوا جنہوں نے وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد سندھ کے مطالبات منظور کروائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال صوبے کی کامیاب گندم خریداری مہم نے مارکیٹ کو مستحکم رکھا اور مہنگائی میں اضافے سے بچایا۔

اس سال صوبائی حکومت 8 لاکھ سے 12 لاکھ ٹن گندم خریدے گی اور ضلعی انتظامیہ کو شفاف خریداری اور کسانوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پیکیج کے تحت فی ایکڑ ایک بوری ڈی اے پی اور دو بوریاں یوریا فراہم کی جائیں گی تاکہ کاشت میں اضافہ ممکن ہو۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وفاقی حکومت سے زرعی ٹیکس میں عارضی رعایت حاصل کر لی گئی ہے جبکہ کھاد کی قلت کے مسائل صوبائی سطح پر حل کیے جا رہے ہیں۔

امن و امان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت شہری اور دیہی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو جدید تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں ڈاکوؤں اور شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

افغان مہاجرین کے معاملے پر مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی پالیسی کے مطابق تمام افغان شہریوں کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے صحت و بلدیاتی اداروں کو انسدادِ مچھر اسپرے مہم تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025