جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے بدھ کے روز بظاہر کم فاصلے تک مار کرنے والے متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صرف ایک ہفتہ بعد جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک رہنماؤں کا اہم اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔
فوجی حکام کے مطابق یہ پیانگ یانگ کی جانب سے مئی کے بعد پہلی میزائل لانچنگ ہے، جو امریکا اور جنوبی کوریا کی حمایت یافتہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود انجام دی گئی۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن فورم کے اجلاس میں ملاقات کریں گے، جہاں چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ٹرمپ کی ملاقات متوقع ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا کے دارالحکومت کے قریب سے شمال مشرقی سمت میں کئی میزائل فائر کیے گئے، جو تقریباً 350 کلومیٹر تک پرواز کے بعد زمین پر گرے۔
فوج نے کہا کہ لانچ سے قبل مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جس کے بعد میزائلوں کی پرواز کو ٹریک کیا گیا۔ جاپان اور امریکا کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر میں ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا جبکہ صدر کو تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
جاپان کی نئی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے کہا کہ شمالی کوریا کی تازہ میزائل لانچ سے جاپان کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں اور ٹوکیو واشنگٹن کے ساتھ معلومات شیئر کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا نے 8 مئی کو اپنی مشرقی ساحل سے کم فاصلے تک مار کرنے والے کئی میزائل داغے تھے۔ جوہری صلاحیت کے حامل شمالی کوریا نے گزشتہ دہائی میں اپنی میزائل طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جبکہ رواں ماہ ایک فوجی پریڈ میں اس نے اپنا جدید بین البراعظمی میزائل بھی نمائش کے لیے پیش کیا۔