جاپان کی نئی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے بدھ کے روز ایک بڑے معاشی پیکج کی تیاری شروع کر دی ہے جس کی مالیت گزشتہ سال کے 92 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع کےمطابق یہ پیکج مہنگائی کے اثرات سے نمٹنے اور مقامی آمدن میں بہتری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ 13.9 ٹریلین ین (تقریباً 92.19 ارب ڈالر) سے زائد کا پیکج ہوگا، جو تاکائچی کے عہد وزارتِ عظمیٰ کا پہلا بڑا معاشی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ پالیسی سازوں کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ان کی ذمہ دارانہ اور فعال مالیاتی پالیسی کے ویژن کو آگے بڑھانا ہے۔
پیکج تین بڑے ستونوں پر مبنی ہوگا: مہنگائی سے نمٹنے کے اقدامات، ترقیاتی صنعتوں میں سرمایہ کاری، اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا۔ رپورٹ کے بعد جاپان کا نکئی شیئر انڈیکس منفی رجحان سے نکل کر مثبت ہو گیا جبکہ ین نے اپنی ابتدائی بڑھت برقرار رکھی۔
تاکائچی حکومت کے مہنگائی مخالف اقدامات میں عارضی پٹرول ٹیکس کے خاتمے اور مقامی حکومتوں کے لیے گرانٹس میں توسیع شامل ہے، تاکہ وہ چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی معاونت کر سکیں جو اجرتوں میں اضافے کے لیے موجودہ ٹیکس رعایتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔
اس کے علاوہ، پیکج میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیمی کنڈکٹرز جیسی جدید صنعتوں میں سرمایہ کاری بھی شامل ہوگی۔ پیکج کی حتمی تفصیلات آئندہ ماہ تک سامنے آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اخراجات توقعات سے بڑھ گئے تو حکومت کو خسارہ پورا کرنے والے بانڈز جاری کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔