وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو ٹیلی فون پر مبارکباد دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامیہ کے ساتھ وسیع تر قومی مفاد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ وفاق پاکستان کے مفاد میں خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
سہیل آفریدی کی حفاظتی ضمانت منظور
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، جنہوں نے ایک ہفتے کے سیاسی اور آئینی بحران کے بعد بدھ کی شام حلف اٹھایا تھا، نے پشاور ہائی کورٹ سے 18 نومبر تک حفاظتی ضمانت حاصل کر لی ہے۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران وزیرِ اعلیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ان کے خلاف کسی بھی فوجداری مقدمے کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔
عمران خان سے ملاقات کی کوشش
عدالتی کارروائی کے بعد سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
بعدازاں پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھہ اور وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا یار محمد خان نیازی نے بھی تصدیق کی کہ سہیل آفریدی بانی سے ملاقات کے لیے جیل جا رہے تھے۔
تاہم پارٹی نے بعد میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حکام نے وزیراعلیٰ کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جسے پی ٹی آئی نے پاکستان مخالف اقدام قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ نے پنجاب کے محکمہ داخلہ اور وفاقی وزارتِ داخلہ کو خط لکھ کر وزیراعلیٰ آفریدی اور پی ٹی آئی بانی کے درمیان ملاقات کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی درخواست کی تھی۔