کے الیکٹرک نے خبردار کیا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے مجوزہ ٹیرف میں رد و بدل سے کمپنی کو سالانہ 100 ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو اس کی مالی استحکام اور کراچی کی توانائی کے تحفظ کو شدید طور پر متاثر کرے گا۔

اس سلسلے میں کے الیکٹرک کے چیئرمین مارک جیرارڈ اسکلٹن اور چیف فنانشل آفیسر عامر غازیانی نے سیکریٹری پاور کو مشترکہ طور پر ایک خط لکھا ہے جس کی نقول وزیرِ خزانہ اور نیپرا کے سینئر حکام کو بھی بھیجی گئی ہیں۔

یہ خط 7 اکتوبر کو لکھا گیا تھا، نیپرا کی سماعت سے دو دن قبل، جس کے دوران مبینہ طور پر پاور ڈویژن نے سخت مؤقف اپنایا تھا اور اس میں حکومتی عہدیداروں اور ریگولیٹر کو ہفتے بھر کی بات چیت کے دوران ہونے والی اہم پیش رفت سے آگاہ کیا گیا تھا۔

ان مذاکرات کا محور پاور ڈویژن کی جانب سے دائر کیے گئے ریویو موشنز اور دوبارہ غور کی درخواست تھی جس میں کے۔ الیکٹرک کے مالی سال 2024-30 کے لیے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی اور جنریشن کے کثیر المدتی ٹیرف، نیز مالی سال 2017-23 کے لیے رائٹ آف کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

کے-ای نے بتایا کہ 29 ستمبر سے 3 اکتوبر کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں وفود کی قیادت ابتدائی طور پر سی ای او سی پی پی اے-جی ریحان اختر نے کی اور بعد میں ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن محفوظ بھٹی نے کی۔ ان کے ساتھ پاور ڈویژن، پی پی ایم سی ، سی پی پی اے کے حکام اور پی پی ایم سی کے قانونی مشیر منور السلام سمیت بھی شامل تھے۔

سماعتوں کے دوران کے-ای نے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی ٹیرف اور رائٹ آف کے فیصلے کے حوالے سے متعدد دلائل پیش کیے۔

کمپنی نے کارروائی کے طریقہ کار اور حقائق سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی جن کا تذکرہ اس نے ابتدائی طور پر 29 ستمبر کے اپنے خط میں کیا تھا اور ان ہی تحفظات کو سماعتوں کے دوران دہرایا، اور نیپرا کے غور کے لیے تفصیلی تحریری تبصرے بھی جمع کرائے۔

کے-الیکٹرک نے 7 اکتوبر سے قبل پاور ڈویژن کے ایک نمائندے کے اس دعوے کی وضاحت دینا بھی ضروری سمجھا جس میں کہا گیا تھا کہ تجویز کردہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کا کمپنی کے کیش فلو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

کے۔ الیکٹرک نے کہا کہ انتہائی احترام کے ساتھ عرض ہے کہ یہ مفروضہ زمینی مالی حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ ٹیرف میں فی روپے کی کمی سے اس کی قابل وصول آمدنی میں 15 ارب روپے کی کمی واقع ہوتی ہے جو اس کے منافع اور کیش فلو دونوں پر سنگین اثر ڈالتی ہے۔

کے۔ الیکٹرک نے خبردار کیا کہ پاور ڈویژن کی جانب سے مجوزہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹس سے کمپنی کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے، جو اس کی مالی استحکام اور کراچی کے توانائی مستقبل کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔

صرف مالی سال 2024 کے لیے، تقریباً 4 ارب روپے کی متوقع آمدنی 100 ارب روپے سے زیادہ کے نقصان میں بدل جائے گی۔ یہ اثر مالیات سے کہیں زیادہ ہوگا، جس سے سرمایہ کاری کے منصوبے، نقد بہاؤ، اور کراچی اور اس کے گرد و نواح کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے گی۔

کے۔ الیکٹرک نے مزید کہا کہ مجوزہ ڈس الاوئنسز اس کے منافع کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے، جس کے نتیجے میں کمپنی EBITDA-پازیٹو پوزیشن سے آپریٹنگ خسارے کی صورتحال میں منتقل ہو جائے گی۔

مزید برآں، متوقع سالانہ نقصان کئی سینڈیکیٹڈ اور کثیرالجہتی قرضوں سے وابستہ مالی معاہدوں کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے۔ 31 اگست 2025 تک کے الیکٹرک کے کل بقایا قرضہ 272 ارب روپے تھے جس میں 91 ارب روپے غیر ملکی اور 181 ارب روپے مقامی قرضے شامل ہیں۔

کے۔ الیکٹرک نے خبردار کیا کہ بینک اور قرض دہندگان، بشمول بین الاقوامی ڈیولپمنٹ فنانس ادارے اور مقامی کمرشل سینڈیکیٹس، ممکنہ طور پر ایونٹ آف ڈیفالٹ شقیں نافذ کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں قرض کی ادائیگی کو تیز کیا جاسکتا ہے اور بقایا واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ادا شدہ قسطیں منجمد کی جاسکتی ہیں اور وعدہ شدہ کریڈٹ لائنز منسوخ ہوسکتی ہیں۔

خط میں مزید خبردار کیا گیا کہ کیش فلو میں کمی ورکنگ کیپٹل کو شدید محدود کردے گی جس کے نتیجے میں ضروری آپریشنز، وینڈرز کی ادائیگیاں اور ایندھن کی خریداری میں تاخیر ہوگی جو براہِ راست کراچی، جہاں 20 ملین سے زائد آبادی اور ملک کا اقتصادی مرکز ہے کو بجلی کی فراہمی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

بالآخر، کے۔ الیکٹرک کی گوئنگ کنسرن حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے آئینی مالی بیانات اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریگولیٹری فائلنگز پر ممکنہ اعتراضات یا کوالیفیکیشنز لگ سکتی ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ ایسے مالی دباؤ کے میکرو اکنامک نتائج وسیع تر بجلی کے شعبے پر اثر ڈال سکتے ہیں اور حکومت کی جاری نجکاری اور اصلاحات کی کوششوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں۔

کے۔ الیکٹرک کے چیئرمین اور چیف فنانشل آفیسر نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس خط کے ذریعے ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ کے دفتر کو زیرِ غور مفروضات کے ممکنہ نتائج کا مکمل اور حقیقی منظرنامہ دستیاب ہو، تاکہ پاور ڈویژن کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی ترامیم عملی پائیداری اور عوامی مفاد کے متوازن جائزے کے مطابق ہوں۔

معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، کے۔ الیکٹرک کی اعلیٰ انتظامیہ نے سیکریٹری پاور ڈویژن سے ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ وہ تفصیلی ڈیٹا پیش کر سکیں اور انہیں ذاتی طور پر بریف کر سکیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025