پاکستان

ورلڈ بینک نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی 2.6 فیصد تک کم کر دی

  • ابتدائی تخمینوں کے مطابق پنجاب میں زرعی پیداوار میں کم از کم 10 فیصد کی کمی متوقع ہے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی بینک کی مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے بارے میں تازہ ترین اقتصادی رپورٹ میں منگل کو بتایا گیا ہے کہ مالی سال 26 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے کیونکہ تباہ کن سیلاب زرعی پیداوار پر اثر ڈال رہے ہیں اور مہنگائی کا دباؤ دوبارہ ابھر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مالی سال 2024-25 میں حقیقی جی ڈی پی برائے فیکٹر لاگت کی سالانہ شرح نمو 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے جو مالی سال 2023-24 کی 2.5 فیصد کی توسیع سے قدرے زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی نمو تقریباً 2.6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے کیونکہ جاری شدید سیلاب نے پیش گوئی کو متاثر کیا ہے۔

عالمی بینک نے بتایا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پنجاب میں زرعی پیداوار میں کم از کم 10 فیصد کی کمی متوقع ہے جو چاول، گنا، کپاس، گندم، اور مکئی جیسی اہم فصلوں کو متاثر کرے گی۔

مالی سال 2026/27 کیلئے ترقی کی رفتار 3.4 فیصد تک تیز ہونے کی توقع ہے جسے زیادہ زرعی پیداوار، کم مہنگائی اور شرح سود، صارفین اور کاروباری اعتماد کی بحالی اور نجی کھپت اور سرمایہ کاری میں اضافے سے مدد ملے گی۔

عالمی بینک نے کہا کہ آئندہ کے لیے پاکستان جو تاریخی طور پر پیچیدہ ڈھانچے کے ساتھ بلند محصولات رکھتا رہا ہے، حال ہی میں منظور ہونے والے پانچ سالہ اصلاحاتی منصوبے (2025–2030) کے ذریعے محصولات کو نصف کرنے سے برآمدات اور اقتصادی نمو کے حوالے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی معیشتوں میں جہاں حالیہ برسوں میں مہنگائی خاص طور پر زیادہ تھی اب وہاں کم ہورہی ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں مالی سال 2024/25 میں مہنگائی کی شرح سنگل ہندسے تک گرگئی کیونکہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کم ہوا، تاہم جاری تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے خوراک کی سپلائی چینز میں رکاوٹ کے سبب 2027 تک مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کی توقع ہے۔

عالمی بینک نے نوٹ کیا کہ عالمی رجحانات کے مطابق پاکستان میں نچلی-درمیانی آمدنی کی حد پر غربت 2011 اور 2018 کے درمیان 9.4 فیصد پوائنٹس کم ہوئی ہے۔

تاہم رپورٹ نے نوٹ کیا کہ 2020 سے لے کر اب تک اکنامکس شاکس اور قدرتی آفات کے امتزاج کی وجہ سے غربت میں کمی کا یہ رجحان رک گیا ہے اور مزید یہ کہ اپنی نسبتاً زیادہ غربت کی شرح اور بڑی آبادی کی وجہ سے ملک میناپ کے غریب افراد کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

اسی دوران، رپورٹ میں میناپ خطے کے اقتصادی منظرنامے میں بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں توقع کی جاتی ہے کہ 2025 میں نمو 2.8 فیصد اور 2026 میں 3.3 فیصد تک پہنچے گی، تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال، تجارتی پالیسی میں تبدیلیاں اور جاری تنازعات و بے دخلی ممکنہ خطرات کے طور پر موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں سب سے زیادہ زرخیزی کی شرح میں سے ایک ہے۔ تاہم اس کی آبادی تبدیلی اپنے ہم منصب ممالک کے مشابہ راستے پر ہے، بس کچھ دیر سے اور توقع کی جاتی ہے کہ ایک نسل کے اندر زرخیزی کی شرح ریپلیسمنٹ لیول سے نیچے آجائے گی۔

رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ پاکستان جیسے معیشتوں میں خواتین کو لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے سے روکنے والی رکاوٹیں دور کرنے سے فی کس جی ڈی پی میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ممکنہ فائدہ ہے۔