فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی فیلڈ فارمیشنز نے سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک غیر قانونی طریقہ اختیار کر لیا ہے، جس کے تحت کسی عدالتی کارروائی یا قانونی طریقہ کار کے بغیر سیلز ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ معروف ٹیکس ماہرین کے مطابق، یہ عمل سپریم کورٹ کے طے شدہ اصول کے خلاف ہے، جس کے تحت کسی بھی ٹیکس فراڈ کی کارروائی صرف سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 11 کے تحت ٹیکس کے تخمینے کے بعد ہی شروع کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک بڑے ٹیکس دہندہ نے — جو سالانہ 12 ارب روپے سے زائد محصولات ادا کرتا ہے اور ایل ٹی او لاہور کے زون-IV میں رجسٹرڈ ہے — دائرہ اختیار کی تبدیلی کے لیے درخواست جمع کرائی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح افسران بغیر قانونی عمل کے ٹیکس وصولی کے غیرقانونی طریقے استعمال کر رہے ہیں۔
مذکورہ کیس میں کمشنر نے 15 ستمبر 2025 کو رجسٹریشن معطل کرنے کا نوٹس جاری کیا، جس میں ٹیکس فراڈ کے دو الزامات عائد کیے گئے۔ پہلا الزام 11,097,347 روپے کے ناقابلِ قبول ان پٹ ٹیکس کا اور دوسرا فاٹا/پاٹا میں 872,792,811 روپے کی ٹیکس فری سپلائیز کو قابلِ ٹیکس قرار دے کر 157,102,705 روپے سیلز ٹیکس واجب الادا ہونے کا تھا۔
رجسٹرڈ شخص نے 20 ستمبر 2025 کو اپنے جواب میں وضاحت دی کہ بیشتر رقم (10,260,681 روپے) تو پہلے ہی رضاکارانہ طور پر واپس کر دی گئی ہے، جبکہ باقی 836,666 روپے کا دعویٰ سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتی نظیروں کے مطابق درست ہے۔ فاٹا/پاٹا کے حوالے سے کہا گیا کہ اس دور کے چھٹے شیڈول کے مطابق سپلائیز سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ تھیں۔
باوجود اس کے، کمشنر نے 24 ستمبر 2025 کو رجسٹریشن معطل کر دی اور اسے آئرس میں نان ایکٹو ظاہر کر دیا۔ معطلی کے حکم میں جواب کی تفصیل شامل نہیں کی گئی، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
متاثرہ کمپنی نے اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو سے رجوع کیا، جس نے 30 ستمبر 2025 کو معطلی کا حکم 30 دن کے لیے معطل کر کے رجسٹریشن بحال کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم، کمپنی کے نمائندے کے مطابق، کمشنر نے بحالی کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کیا اور 500 ملین روپے ٹیکس کی اپ فرنٹ ادائیگی کا مطالبہ دہرایا، جسے بعد میں بڑھا کر 700 ملین روپے کر دیا گیا۔
ٹیکس کنسلٹنٹ شاہد جامی نے بتایا کہ رجسٹریشن معطلی کے نوٹس اب محکمہ بھر میں عام ہو گئے ہیں، جو ٹیکس دہندگان کو فوری ادائیگی پر مجبور کرنے کا ایک شارٹ کٹ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو ایسے تمام نوٹسز کا آڈٹ کر کے ان افسران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو غیرقانونی طور پر رجسٹریشن معطل کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، اس طرح کے اقدامات سے ریونیو میں اضافہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے، کیونکہ رجسٹریشن معطل ہونے کے بعد کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں اور ٹیکس وصولی ممکن نہیں رہتی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025