پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات میں 3.83 فیصد کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا ستمبر برآمدات 7.61 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 7.91 ارب ڈالر تھیں۔ صرف ستمبر میں برآمدات سالانہ 11.71 فیصد سکڑ کر 2.51 ارب ڈالر پر آگئیں جو گزشتہ چھ ماہ میں پانچویں بار کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔

برآمدات میں یہ گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب درآمدات میں 13.49 فیصد اضافہ ہوا اور تجارتی خسارہ پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 9.37 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 7.05 ارب ڈالر تھا۔

پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ٹیکسٹائل اس وقت دوہرے دباؤ کا شکار ہے، ایک جانب عالمی منڈی میں کمزور طلب اور دوسری جانب ملکی سطح پر بڑھتی پیداواری لاگت۔ اس بحران کی تازہ مثال گل احمد ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ ہے، جس نے مسلسل نقصانات کے باعث اپنے ایکسپورٹ اپیرل سیگمنٹ کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ یہ محنت طلب شعبہ ہزاروں ملازمین پر مشتمل تھا اور اس کی بندش سے واضح ہے کہ مارکیٹ لیڈرز بھی دباؤ برداشت نہیں کر پارہے۔

پی ٹی سی نے متنبہ کیا کہ مسئلہ صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ مہینوں میں پروکٹر اینڈ گیمبل، مائیکروسافٹ، شیل، ٹوٹل انرجیز، فائزر، سانوفی اور کریم جیسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یا تو پاکستان سے انخلا کر لیا ہے یا اپنی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کی ہے۔ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، غیر مسابقتی توانائی نرخ، بھاری ٹیکسیشن اور ریگولیٹری رکاوٹیں ان فیصلوں کی مشترکہ وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔

پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ یہ تمام واقعات ہمارے لیے ایک ویک اپ کال ہیں، پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت اب ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے۔

پی ٹی سی نے حکومت سے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن میں اجرت و لیبر پالیسیوں کو علاقائی معیشتوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، برآمدی صنعتوں کے لیے ریجنلی مسابقتی توانائی نرخ فراہم کرنا، ٹیکس اصلاحات کے تحت 72 گھنٹوں میں خودکار ریفنڈز اور ان پٹ کی زیرو ریٹنگ، مالی سہولت کاری کے لیے ایکزم بینک اور فنانسنگ اسکیموں کو مستحکم کرنا اور پالیسی استحکام کو شفاف KPIs کے ذریعے یقینی بنانا شامل ہیں۔

چیئرمین فواد انور نے واضح کیا کہ کونسل کی تجاویز کسی سبسڈی کا مطالبہ نہیں بلکہ مساوی مواقع فراہم کرنے کی اپیل ہیں تاکہ پاکستانی صنعتیں بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے خطے کے حریف ممالک کے ساتھ مسابقت کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت توانائی، ٹیکسیشن اور پالیسی استحکام کے محاذ پر اپنی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب نہیں دیتی، ملک کو ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں بھی مزید بندشوں کا سامنا ہوگا۔ عمل کرنے کا وقت اب ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025