وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو غزہ جانے والے امدادی بیڑے پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بربریت قرار دیا اور فلسطینیوں تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی محفوظ ترسیل کا مطالبہ کیا۔
لندن میں موجود وزیراعظم نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان غزہ فلوٹیلا پر اسرائیلی افواج کے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میں 44 ممالک کے 450 سے زائد انسانی ہمدرد کارکن موجود تھے۔
انہوں نے لکھا کہ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ بے سہارا فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔ امن کو موقع ملنا چاہیے اور انسانی ہمدردی کی امداد ضرور ان تک پہنچنی چاہیے جو اس کے مستحق ہیں۔
غزہ صمود فلوٹیلا، جو اس ہفتے کے اوائل میں بین الاقوامی پانیوں سے روانہ ہوا تھا، بدھ کے روز مشرقی بحیرہ روم میں اسرائیلی بحری افواج نے روک لیا۔
یہ بیڑہ بین الاقوامی سول سوسائٹی تنظیموں کی جانب سے تیار کیا گیا تھا، جس میں طبی سامان، خوراک اور انسانی ہمدرد کارکن شامل تھے جن کا مقصد غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنا تھا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ فلوٹیلا قانونی طور پر نافذ کردہ بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم جہاز میں موجود کارکنان اور عالمی مبصرین نے اس کارروائی کو طاقت کے بے جا استعمال کے مترادف قرار دیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حراست میں لیے گئے افراد میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت متعلقہ عالمی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان کی سلامتی اور فوری رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کا موازنہ 2010 کے مہلک ماوی مرمرہ واقعے سے کیا ہے، جب اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ جانے والے ایک امدادی بیڑے پر حملہ کر کے 9 ترک کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے اور غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اعادہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی کوششوں کو جرم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس طرح کے جارحانہ اقدامات صرف مظلوموں کی تکالیف میں اضافہ کرتے ہیں اور امن کے امکانات کو مزید تاخیر کا شکار بناتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025