امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کے روز ڈیموکریٹس کی اکثریت رکھنے والی ریاستوں کے لیے 26 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیے، جس سے حکومتی شٹ ڈاؤن کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ اس اقدام کے تحت نیویارک میں 18 ارب ڈالر کے ٹرانزٹ منصوبے اور 16 ڈیموکریٹس کی زیر انتظام ریاستوں میں 8 ارب ڈالر کے گرین انرجی منصوبے متاثر ہوئے، جن میں کیلیفورنیا اور الینوائے شامل ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے انتباہ دیا کہ اگر شٹ ڈاؤن چند دنوں سے زیادہ جاری رہا تو وفاقی ملازمین کے خلاف اقدامات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت تقریباً 7.5 لاکھ وفاقی ملازمین کو کام سے روک دیا گیا ہے، جب کہ فوجی اور بارڈر اہلکار بغیر تنخواہ کے کام پر مامور ہیں۔ محکمہ ویٹرنز افیئرز نے اعلان کیا ہے کہ قومی قبرستانوں میں تدفین جاری رہے گی مگر کتبے لگانے اور دیکھ بھال روک دی گئی ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ نیویارک کے منصوبے رکنے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چَک شُومر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ امریکی عوام کو یرغمال بنا کر سیاسی بلیک میلنگ کر رہے ہیں۔
ریپبلکن رہنماؤں نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس حکومت کھولنے کے حق میں ووٹ دیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ تاہم سینیٹ میں بار بار کوششوں کے باوجود بجٹ منظور نہ ہو سکا۔ اس وقت تنازعہ 1.7 ٹریلین ڈالر کے اخراجات سے متعلق ہے، جو سرکاری اداروں کے آپریشنز کے لیے درکار ہیں۔
سیاسی تعطل نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شٹ ڈاؤن طویل ہوا تو 2018-19 کے ریکارڈ 35 روزہ شٹ ڈاؤن کی یاد تازہ ہو سکتی ہے۔