کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ ساز تیزی جاری،100 انڈیکس ایک لاکھ 68 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند

  • بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک روز کے دوران 1.7 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
شائع October 2, 2025 اپ ڈیٹ October 2, 2025 08:07pm

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو بھرپور خریداری دیکھی گئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 1,68,000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر بند ہوا۔

کاروباری سیشن کے بیشتر حصے میں مثبت رجحان برقرار رہا جس کی بدولت کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے دوران بلند ترین سطح 168,619.32 پوائنٹس تک جا پہنچا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,849.29 پوائنٹس یا 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 168,489.62 پوائنٹس پر بند ہوا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے اسٹاکس تیزی سے ترجیحی سرمایہ کاری کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔

پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ سرمایہ کار حصص کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ دیگر اثاثہ جاتی طبقات سے منافع محدود ہے اور ٹیکس کے فوائد موجود ہیں۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کا بنیادی سبب میوچوئل فنڈز کی جانب سے مسلسل جارحانہ خریداری تھی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھا اور مارکیٹ کے رجحان کو سہارا دیا۔

رپورٹ کے مطابق بینکاری شعبہ نمایاں کارکردگی کا حامل رہا، جہاں MEBL، UBL، BAHL، HBL اور NBP نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 1,827 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم، LUCK، HUBC اور SYS میں منافع کے حصول کے باعث فروخت نے مجموعی تیزی کو قدرے محدود کیا، جس سے انڈیکس میں 192.05 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔

اہم کارپوریٹ پیش رفت میں جلیٹ پاکستان لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بنیادی کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) نے اپنے عالمی تنظیم نو منصوبے کے تحت پاکستان میں اپنے کاروباری آپریشنز ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثناء جمعرات کو ایک خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ سال اپریل میں میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر مالیت کے یوروبانڈ کی ادائیگی کے لیے ’مضبوط پوزیشن‘ میں ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس 146.75 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 165,640 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر جمعرات کو ٹیکنالوجی شیئرز میں تیزی دیکھی گئی جس کے باعث ایشیائی اسٹاک انڈیکس میں اضافہ ہوا جبکہ سونا ریکارڈ سطح کے قریب مستحکم رہا اور امریکی ڈالر کمزور پڑگیا کیونکہ امریکی لیبر مارکیٹ کی کمزور رپورٹ نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے امکانات کو مزید تقویت دی۔

امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے باعث تقریباً یقینی ہوگیا ہے کہ جمعہ کو جاری ہونے والے ماہانہ روزگار کے اعدادوشمار جاری نہیں ہوسکیں گے، تاہم بدھ کی رات جاری ہونے والی نجی ادارے اے ڈی پی کی روزگار رپورٹ میں ظاہر ہوا ہے کہ ستمبر میں معیشت نے غیر متوقع طور پر نوکریوں میں کمی کی جب کہ پچھلے ماہ کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی نظرثانی کی گئی۔

سرکاری لیبر ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باوجود مایوس کن اے ڈی پی رپورٹ کے بعد ٹریڈرز نے سال کے باقی دونوں پالیسی اجلاسوں میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے چوتھائی پوائنٹ شرح سود میں کٹوتی کو تقریباً یقینی قرار دے دیا ہے۔

نرم مانیٹری پالیسی کی امید نے بدھ کو وال اسٹریٹ کو نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچا دیا، جب کہ فِلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چِپ سیکٹر کے شیئرز جاپان کے نکی انڈیکس کو بھی سہارا دیتے ہوئے تقریباً 0.5 فیصد اوپر لے گئے۔

تائیوان کی ٹیکنالوجی پر مبنی مارکیٹ میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ جنوبی کوریا کا KOSPI انڈیکس 2.8 فیصد اُوپر چلا گیا، سام سنگ اور ہائنکس کی جانب سے اوپن اے آئی کے ڈیٹا سینٹرز کو چپ فراہمی کے معاہدوں کے بعد۔

ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس بھی 0.5 فیصد بڑھ گیا۔

دریں اثناء جمعرات کو پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مثبت رفتار برقرار رکھتے ہوئے 0.01 فیصد قدرے مستحکم ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر روپیہ 4 پیسے کے اضافے کے ساتھ 281.27 پر بند ہوا۔

آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 1,573 ملین شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 1,639 ملین تھا۔ تاہم شیئرز کی مالیت بڑھ کر 70.19 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے روز 69.66 ارب روپے تھی۔

بینک آف پنجاب 148.12 ملین شیئرز کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 133.87 ملین اور کے-الیکٹرک لمیٹڈ کے 115.98 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔

جمعرات کو مجموعی طور پر 489 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 239 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 227 میں کمی جبکہ 23 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔