وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ توانائی، مائننگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اس ماہ کے آخر میں واشنگٹن میں ایک انویسٹر کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ امریکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔

انہوں نے بلومبرگ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ شعبے بہت واضح ہیں جہاں ہم ان کی سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور جہاں ہمیں سرمایہ کاری کی حقیقی طلب نظر آتی ہے۔ امریکہ کے حوالے سے، اس وقت آپ نے اس عمل کا آغاز کیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پیشرفت امریکہ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے بعد ہوئی ہے جس میں 19 فیصد ٹیرف مقرر کیا گیا، جو خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے اور بھارت پر عائد ٹیرف سے کہیں کم ہے۔

ان کے مطابق اس شرح نے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بہتر بنایا اور ملک کو بحران سے نکالنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ تجارتی مساوات کا معاملہ ختم کیا جائے، جو اب ہو چکا ہے۔ میری نظر میں پاکستان کی ہر صنعت میں برآمدی پہلو ہونا چاہیے کیونکہ یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم اس بوم اینڈ بسٹ سائیکل سے نکل سکتے ہیں۔“

بلومبرگ کے مطابق، پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف کے قرضوں سے ڈیفالٹ سے بچاؤ کیا اور معیشت کو مستحکم کیا۔ اس وقت آئی ایم ایف کا مشن 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ جائزہ بڑی حد تک اہداف کے مطابق ہے اور پاکستان نے منگل کے روز واجب الادا 500 ملین ڈالر کا بانڈ بھی ادا کر دیا ہے۔

گزشتہ ماہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان پروگرام کے اہداف پر مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل، فچ اور موڈیز نے رواں سال پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز کو اپ گریڈ کیا، جس کی وجوہات میں بہتر مالیاتی صورتحال اور محصولات میں اضافہ شامل ہیں۔

ڈالر بانڈز اور ایکویٹیز کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ پاکستان کے بانڈز نے رواں سال تقریباً 22 فیصد منافع دیا جبکہ بینچ مارک اسٹاک انڈیکس میں 44 فیصد اضافہ ہوا، جو ایشیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کا اندازہ ہے کہ دوسری سہ ماہی میں نمو سالانہ 3.4 فیصد تک تیز ہوئی، جس کے سرکاری اعداد و شمار اگلے ہفتے جاری ہوں گے۔ تاہم حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچنے سے بحالی کو خطرہ لاحق ہے۔