حکومت اپنے بعض ‘منافع بخش’ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے وعدے پر عمل درآمد کرے۔

نجکاری کے مخالفین کچھ دلائل پیش کرسکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو یہ چاہیں گے کہ حکومت مزید نجی کاروبار میں مداخلت کرے، خصوصاً پیچیدہ توانائی کے شعبے میں، جہاں آمدنی کی دو بالکل الگ کہانیاں ہیں۔

آئیے ان بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے شروع کرتے ہیں جو حکومت سے معاملات کرتی ہیں۔ اینگرو پاورجن قادر پور نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے چھ ماہ کے لیے اپنے سرمایہ کاروں کو فی حصص 9.50 روپے منافع دینے کا اعلان کیا۔ تقریباً 30 روپے کے حصص کی قیمت کے مقابلے میں یہ ڈیویڈنڈ ییلڈ بیشتر کے ایس ای-100 کمپنیوں سے بہتر ہے۔

کمپنی کے مجموعی اثاثے 15.6 ارب روپے ہیں جو اس کی واپسی کا بہترین کیس پیش کرتے ہیں۔ ای پی کیو ایل نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے چھ ماہ میں 460 ملین روپے منافع کمایا۔ اسی عرصے میں 2024 کے دوران یہ منافع غیر معمولی طور پر 1.61 ارب روپے تھا۔

کوہِ نور انرجی لمیٹڈ نے مالی سال 2024 میں 1.6 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا، جو مالی سال 2025 میں کم ہو کر 723 ملین روپے رہ گیا۔ دونوں صورتوں میں کمپنی کا خالص نفع اس کی آمدنی کا تقریباً 15 سے 16 فیصد رہا۔ یہ ایک صحت مند شرح ہے۔ نشاط چونیاں پاور نے اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی، جس نے مالی سال 2024 میں تقریباً 5 ارب روپے کا منافع کمایا، جو اس کی آمدنی کے تقریباً ایک تہائی کے برابر تھا۔

مزید مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں، لیکن پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں برسوں سے اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ انہیں خودمختار ضمانتوں کا تحفظ حاصل رہا، غالباً اس لیے کہ انہوں نے اُس وقت حکومت کو بجلی گھر لگانے میں مدد دی جب اسلام آباد مجبور تھا اور ایسے پُرکشش منافع کی پیشکش کی گئی تھی جو یہ یقینی بنائے کہ وہ اپنے پلانٹس کو چلائے رکھیں۔ دریں اثنا، فروخت ہونے والے بجلی کے یونٹس کی تعداد مالی سال 2022 میں 124,628.9 گیگاواٹ سے کم ہوکر مالی سال 2024 میں 109,707.85 گیگاواٹ رہ گئی۔

ایسے حالات میں کوئی یہ یقین کرے گا کہ توانائی کے شعبے سے منسلک تمام کمپنیاں اچھی کارکردگی دکھا رہی ہوں گی۔ تاہم، صورتِ حال اس وقت یکسر بدل جاتی ہے جب آپ صارفین کو براہِ راست بجلی فراہم کرنے والے کاروبار میں داخل ہوتے ہیں اور جب حکومت خریدار کے بجائے فروخت کنندہ بن جاتی ہے اور پاکستان کے شہری صارفین میں بدل جاتے ہیں۔

ایسے منظرنامے میں، کے-الیکٹرک جیسی کمپنی کے مالیاتی گوشواروں کا تجزیہ دلچسپ ہے۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے اپنے مالی سال 2024 کی رپورٹ اسٹاک ایکسچینج کو جاری کی ہے۔

مالیاتی بیان کے مطابق مالی سال 24 میں اس کی خالص آمدنی 557.1 ارب روپے رہی۔ اس کے باوجود، خالص منافع صرف 4.23 ارب روپے رہا، جو توانائی کے باقی شعبے کی کمائی کے مقابلے میں نہایت کمزور ہے، جہاں خریدار صرف حکومت ہے۔ کے-الیکٹرک کا سال بھر کا منافع اس کے ایکویٹی پر صرف 3.6 فیصد واپسی (آر او ای) بنا، جو کہ دیگر کمپنیوں کے عالمی یا صنعتی معیار سے نمایاں طور پر کم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی منافع بھی نہیں دیا گیا۔

کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ صرف کے-الیکٹرک کی کمزوری ہے، لیکن باقی ڈسکوز کی کارکردگی بھی کچھ بہتر نہیں۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، جو حکومت کی نجکاری کی فہرست میں ایک نمایاں نام ہے، نے مالی سال 2023 میں محض 6.5 ارب روپے منافع کمایا جبکہ مالی سال 2022 میں اسے 13.8 ارب روپے کا خسارہ ہوا تھا۔

یاد رہے کہ آئیسکو کا ترسیلی اور تقسیم نقصان مالی سال 2023 میں 8.06 فیصد تھا — جو اُس سال سب سے کم تھا — لیکن اس مد میں اس کا مالی خسارہ پھر بھی 700 ملین روپے رہا۔ حیران کن طور پر اس سال اس کا وصولی تناسب 106.32 فیصد تھا، جو تمام کمپنیوں کے اوسط سے 20 فیصد زیادہ تھا۔

آئیسکو کے مالی سال 2024 کے کھاتے ابھی تک شائع نہیں ہوئے۔ دوسری جانب، گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (گیپکو)، جسے نیپرا کے معیار کے مطابق اوسط سے بہتر ڈسکو سمجھا جاتا ہے اور جو نجکاری کے شیلف پر بھی ہے، نے مالی سال 2024 میں 17 ارب روپے کا زبردست خسارہ کیا۔

بات سیدھی سی ہے: توانائی کی وہ کمپنیاں جو لاکھوں صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہیں، خاطر خواہ منافع کمانے میں ناکام ہیں، چاہے وہ ریگولیٹری معیارات کے قریب ہی کیوں نہ ہوں، اس لیے کہ اُن کے پاس زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ اس کے برعکس، وہی شعبہ جس میں کمپنیاں صرف حکومت کے ساتھ معاملہ کرتی ہیں، بے حد منافع کما رہا ہے۔

یہ کمپنیاں بلاوجہ کی مثالیں نہیں ہیں۔ یہ پاکستان کے بڑے شہروں کو بجلی فراہم کرتی ہیں، تقسیم اور ترسیلی انفراسٹرکچر کو برقرار رکھتی ہیں اور اُنہیں ایسے ضوابط اور قوانین کا پابند بنایا گیا ہے جو ان کی کمائی کو محدود رکھتے ہیں۔ جب حکومت طے کرتی ہے کہ آپ کو بجلی کس نرخ پر ملے گی، آپ اسے کس نرخ پر بیچ سکتے ہیں، بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کا امتزاج (جنریشن مکس) ٹیرف کا تعین کرے گا، اور بجلی کے بلوں پر ٹیکس کتنا لگے گا، تو زیادہ گنجائش باقی نہیں رہتی۔

جو تھوڑی بہت گنجائش بچتی ہے، اُسے وہ لوگ لے لیتے ہیں جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بجلی ایک عوامی سہولت ہے اور اسے مفت تقسیم اور منتقل کیا جانا چاہیے۔ شاید ڈسکوز اُس وقت بہتر منافع کمانا شروع کریں جب وہ اپنے کھاتوں میں درج اربوں روپے کے اثاثے، زمین اور انفراسٹرکچر ایئر بی این بی پر کرایہ پر دینا شروع کردیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025