آئی ایم ایف کا این ایف سی اصلاحات میں پیشرفت پر زور
- وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تکنیکی مذاکرات جاری
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کوبتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کے روز نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے عمل کو مؤثر بنانے میں پیشرفت پر زور دیا ہے، جو مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار میں ایک اہم رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔
وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تکنیکی مذاکرات جاری رہے، جو 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مقامی ہوٹل میں ہونے والے ان اجلاسوں میں وسیع پیمانے پر میکرو اکنامک اور مالیاتی امور پر بات چیت کی گئی، جس میں حالیہ سیلاب کے معیشت پر اثرات، شرح نمو اور مہنگائی پر پڑنے والے دباؤ کو خاص طور پر زیرِ غور لایا گیا۔
آئی ایم ایف ٹیم نے اینٹی منی لانڈرنگ کوآرڈینیشن پر پیشرفت سے متعلق سوالات کیے، بالخصوص ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے خطرات کی ترجیحی درجہ بندی پر۔ اس موقع پر رسک بیسڈ نگرانی، تجارتی منی لانڈرنگ کے چینلز اور ملکی معاشی استحکام پر ان کے اثرات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔
ایک اجلاس میں ای۔پیڈز پروکیورمنٹ سسٹم سے متعلق اپ ڈیٹس پر بات کی گئی، جس میں اس کی کوریج، اعداد و شمار، بیرونی آڈٹ رپورٹس اور نگران اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو شامل کیا گیا۔
ایک اور اجلاس میں بینفیشل اونرشپ رجسٹری اور غیر مالیاتی کاروباروں و پیشہ ورانہ خدمات کی نگرانی پر توجہ دی گئی تاکہ پاکستان کی بین الاقوامی معیار سے مطابقت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کو مالیاتی فریم ورک پر بریفنگ دی گئی، جس میں مالی سال 2025 میں ترقیاتی اخراجات اور مالی سال 2026 کا منظرنامہ شامل تھا۔ اجلاس میں حکومت کی سیلابی صورتحال کے بعد کی حکمتِ عملی، اخراجات کے اختیار کی تقسیم، اسٹرکچرل کیش سرپلسز کے استعمال اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں کمی کو روکنے کے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ اس دوران این ایف سی کے عمل کا ذکر بھی آیا۔
بعد ازاں آئی ایم ایف ٹیم نے میکرو اکنامک فریم ورک کا جائزہ لیا، بالخصوص حقیقی معیشت میں پیشرفت اور سیلاب کے اثرات پر۔ مشن نے حکومت کی جانب سے بڑے سروے مثلاً لیبر فورس سروے (ایل ایف ایس)، ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) اور پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ (پی ایس ایل ایم) پر ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے ایجنڈے، قومی اکاؤنٹس اور مہنگائی کے اعداد و شمار پر بھی غور کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد پاکستان کی اقتصادی ترجیحات کو پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہے، جبکہ سیلاب سے سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز تک متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ اپنی مشاورت جاری رکھے گا، جس کے بعد جائزے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ایک کامیاب جائزہ تقریباً 1 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی راہ ہموار کرے گا، جو ای ایف ایف پروگرام کے تحت جاری کی جائے گی اور پاکستان کے لیے بیرونی فنانسنگ کو سہارا دینے اور میکرو اکنامک حالات کو مستحکم کرنے میں نہایت اہم ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025