یونان سے غزہ کے لیے روانہ ہونے والی ایک بین الاقوامی امدادی بیڑہ جمعے کے روز روانگی کے لیے تیار ہے، اگرچہ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے کشتیوں کو محصور غزہ کے علاقے تک پہنچنے سے روکے گا۔

اس اقدام کو گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا ہے، جو تقریباً 50 سول کشتیوں پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد غزہ کی اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو توڑنا ہے۔ اس بیڑے میں وکلا، ارکان پارلیمان اور کارکنان شامل ہیں، جن میں مشہور سویڈش ماحولیاتی مہم جو گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بیڑے کو بحیرہ روم میں ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد اٹلی اور اسپین نے اپنے شہریوں کی مدد کے لیے بحری جہاز روانہ کر دیے ہیں۔ یونان نے بیڑے کی روانگی کے دوران محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن بین الاقوامی پانیوں میں داخل ہوتے ہی خطرات بڑھ جائیں گے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ بیڑہ صرف حماس کی مدد کرے گا اور اسے غزہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بیڑے کو پیشکش کی کہ وہ امدادی سامان اسرائیل کے حوالے کر دے تاکہ اسے غزہ پہنچایا جا سکے، بصورتِ دیگر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔

بیڑے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف امداد پہنچانا نہیں بلکہ امید اور یکجہتی کا پیغام دینا ہے کہ دنیا فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اٹلی کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس کے تحت امداد قبرص میں اتار کر مقامی چرچ کے ذریعے غزہ بھیجی جا سکتی تھی۔

ادھر اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بیڑے کے ساتھ سفر جاری رکھنے کے خطرات کے ذمہ دار خود ہوں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد غزہ پر فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس میں اب تک مقامی حکام کے مطابق 65,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور علاقے میں قحط نے بھی جنم لے لیا ہے۔