امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو درآمدی اشیا پر سخت ٹیرف کے ایک نئے دور کا اعلان کیا، جس کے تحت برانڈڈ ادویات پر 100 فیصد اور ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف اگلے ہفتے سے نافذ ہو گا۔ اس کے علاوہ کچن کیبنٹس، باتھ روم وینٹیز پر 50 فیصد اور اپہولسٹرڈ فرنیچر پر 30 فیصد ٹیرف یکم اکتوبر سے لاگو ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدامات امریکی مارکیٹ میں بیرونی مصنوعات کے سیلاب کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان اعلانات میں یہ وضاحت شامل نہیں تھی کہ آیا یہ نئی ڈیوٹیاں موجودہ قومی ٹیرف کے علاوہ ہوں گی یا پھر یورپی یونین اور جاپان جیسے تجارتی شراکت داروں کو استثنیٰ دیا جائے گا۔
اس خبر پر ایشیائی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے حصص گر گئے۔ آسٹریلیا کی سی ایس ایل چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی، جاپان کی سومیتومو فارما 5 فیصد سے زیادہ نیچے گئی جبکہ ہانگ کانگ کا ہانگ سینگ بایوٹیک انڈیکس 2.5 فیصد گر گیا۔ چینی فرنیچر بنانے والی کمپنیوں کا انڈیکس بھی 1.1 فیصد کم ہوا۔
ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ادویات پر 100 فیصد ٹیرف ان تمام کمپنیوں پر لاگو ہوگا جو امریکہ میں مقامی پلانٹ قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ امریکی فارما انڈسٹری نے کہا کہ یہ پالیسی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی ونڈ ٹربائنز، ہوائی جہاز، سیمی کنڈکٹرز اور کان کنی کے معدنیات پر ٹیرف کے لیے سیکیورٹی تحقیقات کر رہی ہے۔ نئی تحقیقات طبی آلات، روبوٹکس اور صنعتی مشینری پر بھی شروع کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری ٹرکوں پر ٹیرف سے ٹرانسپورٹیشن لاگت میں اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ممکن ہے، حالانکہ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صارفین کے اخراجات کم کریں گے۔