وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو سیلابی صورتحال کے تناظر میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بات انہوں نے اس موقع پر کہی جب حکومتِ پاکستان اور 18 بینکوں کے ایک کنسورشیم کے درمیان 1.225 کھرب روپے کے فنانسنگ فسیلٹی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ وزیراعظم نے نیویارک سے ورچوئل طور پر اس تقریب میں شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بدھ کو ان کی آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے اہم ملاقات ہوئی، جنہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد انہوں نے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کا ذکر کیا اور بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تیار ہیں اور آپ کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی تھی، جہاں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور آئندہ تعاون پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔
آئی ایم ایف کا ایک وفد 25 ستمبر 2025 کو پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ ای ایف ایف کے دوسرے ششماہی جائزے کو مکمل کیا جا سکے۔ یہ جائزہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سیلاب نے ملک کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث غذائی افراط زر کے نئے خدشات اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گردشی قرضہ تمام وسائل کھا رہا تھا اور مسلسل بڑھ رہا تھا۔میرا یقین ہے کہ اس مسئلے کے حل کا طریقہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور ٹاسک فورس نے دن رات محنت کی اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) سے کامیاب مذاکرات کیے، اور گردشی قرضہ منصوبہ اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے نے معیشت پر بڑا بوجھ ڈالا اور توانائی کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ یہ اقدام توانائی کے شعبے کی لیکویڈیٹی کو بہتر کرے گا اور مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور اصلاحات کے عزم کا مضبوط پیغام دے گا ان کے مطابق اگلے چھ سالوں میں پاکستان گردشی قرضے سے نجات حاصل کر لے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورچوئل خطاب میں کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی فنانسنگ اور ری اسٹرکچرنگ ٹرانزیکشن ہے۔ یہ ایک جیت دونوں کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے ڈھانچاتی مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت کے گردشی قرضہ حل منصوبے سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ ادائیگیاں پہلے سے عائد 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج کے ذریعے کی جائیں گی۔