امریکہ کی جانب سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے باعث بدھ کو کوالالمپور میں ہونے والی ملاقات پر سائے منڈل گئے ہیں، جہاں امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر اپنے علاقائی ہم منصبوں سے تجارتی و سرمایہ کاری معاہدے پر بات چیت کریں گے۔
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے برآمدات پر انحصار کرتے ہیں اور امریکی ٹیرف کے اثرات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ خطے کے زیادہ تر ممالک پر 19 سے 20 فیصد ٹیرف عائد ہے، جبکہ لاوس اور میانمار کو 40 فیصد اور سنگاپور کو 10 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر تجارت تینکُو زافرول عزیز نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ہم ٹیرف پر بات کریں گے یا نہیں، لیکن اس بات کی اہمیت ہے کہ آسیان کے تمام وزرائے معیشت اور امریکی نمائندہ یہاں موجود ہیں، جو اس شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تخمینے کے مطابق، دنیا کے چھٹے بڑے برآمد کنندہ ملک ویتنام کو 20 فیصد ٹیرف کے باعث سالانہ 25 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔
اگرچہ آسیان کے رکن ممالک اب تک الگ الگ امریکہ سے مذاکرات کرتے رہے ہیں، لیکن خدشہ ہے کہ سیمی کنڈکٹر جیسے شعبوں پر مزید سخت ٹیرف کے خطرے کے پیش نظر وہ ایک مشترکہ موقف اپنانے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ صنعت تھائی لینڈ، ملائیشیا اور ویتنام کی معیشت کا اہم ستون ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سیمی کنڈکٹرز پر تقریباً 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، تاہم یہ ان کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوگا جو امریکہ میں مینوفیکچرنگ کر رہی ہیں یا ایسا کرنے کا عزم ظاہر کر چکی ہیں۔