پاکستان میں شدید سیلاب نے دہائیوں بعد پہلی بار بیک وقت دیہی زرعی خطوں اور صنعتی مراکز کو متاثر کیا ہے، جس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور خوراک کی فراہمی، برآمدات اور نازک معاشی بحالی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
حکومت 2026 کے لیے پرامید تھی اور 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ کے تحت معیشت کے استحکام کے بعد زراعت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کی بنیاد پر 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا گیا تھا۔
لیکن جون کے آخر سے شروع ہونے والی ریکارڈ مون سون بارشوں کو بھارت کی جانب سے ڈیموں سے چھوڑے گئے پانی نے مزید شدت دے دی، جس سے پنجاب اور سندھ — دو سب سے زیادہ آبادی والے اور اقتصادی طور پر اہم صوبے — کے وسیع علاقے زیرِ آب آگئے۔
کئی اضلاع میں اب تک پانی نہیں اترا، اور ماہرین و حکام خبردار کر رہے ہیں کہ اس بار زرعی اور صنعتی دونوں شعبوں کو دھچکا 2022 سے بھی زیادہ گہرا ہو سکتا ہے، جب ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا تھا۔
ماہریں زرعی نگرانی کے عالمی ادارے جیوگلام (GEOGLAM) کے مطابق، یکم اگست سے 16 ستمبر تک کم از کم 220,000 ہیکٹر رقبے پر کھڑی دھان کی فصل تباہ ہوئی ہے۔
پنجاب میں، جو چاول، کپاس اور مکئی کا مرکز ہے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 18 لاکھ ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آچکی ہے۔
پاکستان فارمرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خالد باٹھ نے کہا کہچاول کی تقریباً 50 فیصد، کپاس اور مکئی کی 60 فیصد فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
انہوں نے اندازہ لگایا کہ نقصان 25 لاکھ ایکڑ سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جس کی مالیت ایک کھرب روپے (3.53 ارب ڈالر) تک بنتی ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر اقرار احمد خان نے کہا کہیہ حالیہ دہائیوں میں دیکھا جانے والا سب سے شدید نقصان ہے۔
ان کے مطابق ملک کی کم از کم دسویں حصے کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جبکہ کچھ اضلاع میں سبزیوں کی 90 فیصد سے زائد پیداوار برباد ہوچکی ہے۔ یہ وقت نہایت خطرناک ہے، کیونکہ پاکستان گندم کی کاشت شروع کرنے والا ہے، جو ملک کی تقریباً نصف کیلوریز کا ذریعہ ہے۔ کروپ مانیٹر کے مطابق 2024 کی اچھی فصل کے بعد قومی ذخائر تو مطمئن کن ہیں، لیکن وہ کھیت جو اب بھی گاد اور کیچڑ سے بھرے ہیں وہاں گندم کی بوائی کا وقت ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔
اقرار احمد خان نے خبردار کیا کہیہ صرف مہنگائی نہیں، بلکہ خوراک کی قلت آنے والی ہے۔
خطرات کم دکھانا
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تسلیم کیا کہ یہ سیلاب جی ڈی پی کی شرح نمو کو پیچھے دھکیل دیں گے اور کہا کہ تقریباً دو ہفتوں میں نقصان کا واضح تخمینہ سامنے آجائے گا۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ تباہی ایک عارضی مگر نمایاں سپلائی شاک ہے، اور شرح نمو کو اپنی 3.25 سے 4.25 فیصد کی پیش گوئی کے نچلے حصے کے قریب کر دے گی۔
بینک نے مؤقف اپنایا کہ جھٹکا 2022 کے 30 ارب ڈالر کے نقصان جتنا شدید نہیں ہوگا کیونکہ اس بار زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ اور شرح سود کم ہیں۔
لیکن گندم، چینی، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس نے حساس قیمتوں کے اشاریے کو 26 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے نمائندہ خاص ماہیر بِنچی نے کہا کہ اس ہفتے ای ایف ایف کے جائزے میں دیکھا جائے گا کہ آیا 2026 کا بجٹ اور ہنگامی اقدامات ملک کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں یا نہیں۔ احسن اقبال نے فنڈ سے اپیل کی کہ وہ ہمیں نقصانات کم کرنے میں مدد دے۔
کچھ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز خطرات کو کم ظاہر کر رہے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا کہسیلاب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7 ارب ڈالر تک بڑھا دیں گے۔ یہ پچھلے سیلابوں سے زیادہ تباہ کن ہیں۔
نقصانات کا حساب
سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں میں، جو ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور سرجیکل آلات کی برآمدات کا مرکز ہیں، کئی ورکشاپیں پانی میں گھر گئیں۔
زراعت کو پہنچنے والا دھچکا صنعت کاروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کپاس کی کمی ٹیکسٹائل سیکٹر — ملک کے سب سے بڑے زرمبادلہ کمانے والے شعبے — کو متاثر کرے گی، جبکہ چاول برآمد کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان اپنی مسابقت بھارت کے ہاتھ کھو سکتا ہے۔
ملتان کے قریب ایک کسان رَب نواز نے کہا کہہمارے پاس 400 ایکڑ کپاس تھی، لیکن صرف 90 ایکڑ باقی بچی ہے۔
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، 26 جون سے اب تک کم از کم 1,006 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ میں 25 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں گھروں اور چھوٹے کاروباروں کو شدید نقصان پہنچا۔
50 سالہ رکشہ ڈرائیور اور پانچ بچوں کے والد محمد عارف نے بتایا کہ جیسے ہی ان کا گھر پانی میں ڈوبا، انہوں نے اپنا رکشہ اونچی جگہ منتقل کیا، ان کا کہنا تھا کہہم تین دن سے سڑک پر ہیں۔