ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی پیر کے روز ماسکو پہنچ گئے جہاں وہ روسی حکام سے مذاکرات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اقوام متحدہ ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو 15 رکنی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کا مسودہ مسترد کر دیا جس کا مقصد تہران پر عائد پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کرنا تھا۔ اس اقدام کی روس اور چین نے حمایت کی جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی ان پابندیوں کی بحالی کے حامی ہیں۔

یورپی ممالک کا الزام ہے کہ ایران نے 2015 کے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو روکنا تھا، تاہم ایران اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور روس کا مؤقف ہے کہ تہران کو پُرامن ایٹمی توانائی کا حق حاصل ہے۔

محمد اسلامی، جو نائب صدر بھی ہیں، نے کہا کہ دورے کے دوران باہمی تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن میں آٹھ نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔ ایران کا ہدف ہے کہ 2040 تک 20 گیگاواٹ جوہری توانائی حاصل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد ہم عملی اقدامات شروع کریں گے۔

ایران کو اس وقت بجلی کی کمی کا سامنا ہے اور اس کے پاس صرف بوشہر میں روس کا تعمیر کردہ ایک ایٹمی پاور پلانٹ ہے جس کی استعداد ایک گیگاواٹ ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے پیشکش کی ہے کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دے، افزودہ یورینیم کے ذخائر پر شکوک دور کرے اور امریکا سے مذاکرات کرے تو پابندیوں کی بحالی چھ ماہ تک مؤخر کی جاسکتی ہے۔ بصورت دیگر 27 ستمبر کے بعد تمام اقوام متحدہ کی پابندیاں خود بخود بحال ہو جائیں گی۔