پاکستان کا بجلی کا گرڈ تیزی سے ایک کیس اسٹڈی بنتا جا رہا ہے — توانائی کے انتخاب کی جمہوریت پر، عجلت اور قلیل النظر پالیسی کے نتائج پر، اور حالات کو سمجھنے میں مستقل ناکامی پر۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ گرڈ بالکل غیر متعلق ہو گیا ہے، لیکن اس کی اہمیت کھو جانا شروع ہو چکی ہے — اور یہ عمل تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اگست 2025 کو لیجیے۔ بجلی کی مجموعی پیداوار 13.7 ارب یونٹ رہی، جو سالانہ 7.5 فیصد زیادہ ہے، بظاہر یہ بحالی لگتی ہے۔

لیکن گہرائی میں دیکھیں تو یہ خوش فہمی ٹوٹ جاتی ہے۔ اگست 2025 کی پیداوار اب بھی 2019 سے کم اور 2018 سے معمولی سی زیادہ ہے۔ کسی بھی عام معیشت میں بجلی کی کھپت سات برس تک جمود کا شکار نہیں رہتی۔

یہاں تک کہ جنگ زدہ خطے بھی عموماً نمو دکھاتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کچھ اور کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کھپت ختم نہیں ہوئی، بلکہ منتقل ہو گئی ہے۔

مہنگائی، ٹیرف میں اضافے اور پالیسی کی غلطیوں نے صارفین کو متبادل ذرائع کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کچھ نے گرڈ کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے، کچھ ہائبرڈ نظام چلا رہے ہیں۔ زیادہ تر اب بھی گرڈ سے جڑے ہیں — یا جکڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اسٹوریج ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور گرڈ کے ساتھ وابستگی ہمیشہ نہیں رہے گی۔

گرڈ کے لیے ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ صنعتیں دوبارہ واپس آئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر ایل این جی کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ نجی بجلی پیداوار ناقابلِ عمل ہو گئی، اس لیے صنعتوں نے گرڈ سے بجلی لینا دوبارہ شروع کر دیا۔

جس کا اثر تقریباً فوراً ہی زیادہ صنعتی کھپت کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ وہ صارفین ہیں جن کی نظام کو سب سے زیادہ ضرورت ہے — سب سے بہتر ادائیگی کرنے والے — اور ان کی واپسی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

مگر طلب کا رجحان اپنی کہانی خود سناتا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں 2,000 میگاواٹ اضافے کے باوجود دن کے وقت لوڈ میں کمی دیکھی گئی — جو گھروں اور کاروباری مراکز میں چھتوں پر سولر سسٹمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی واضح علامت ہے۔ اب ”ڈک کرف“ کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ اور اس کے ساتھ ایک قیمت بھی جڑی ہے۔

سورج غروب ہوتے ہی گرڈ خلا پُر کرنے کے لیے مہنگے ترین پلانٹس چلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آر ایل این جی اور درآمدی کوئلے سے پیداوار میں تقریباً ایک ارب یونٹ کی انحرافی پیداوار دیکھنے میں آئی۔ اگر یہ پیداواری سطح ریفرنس کے قریب ہوتی تو ماہانہ ایف سی اے میں فی یونٹ 1 سے 2 روپے تک کمی ہو سکتی تھی۔ اس کے برعکس صارفین کو ایک اور اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔

یہی وہ شیطانی چکر ہے۔ سولر دن کے سستے اوقات لے جاتا ہے۔ گرڈ جواباً مہنگے اوقات میں بجلی پیدا کرتا ہے۔ لاگت بڑھتی ہے۔ مزید صارفین سولر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے کام واضح مگر مشکل ہے: گرڈ کو قابلِ بھروسہ اور سستا بنانا، فوری طور پر۔ خاص طور پر صنعتوں کو جڑے رہنے کے لیے اعتماد دینا، کیونکہ یہی طبقہ مالی استحکام لا سکتا ہے۔

مگر جوں جوں گھریلو اور کمرشل صارفین گرڈ پر انحصار کم کرتے ہیں، اخراجات بانٹنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

مالی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، اور سوال اٹھتا ہے: جب صارفین کی بنیاد ہی سکڑتی جا رہی ہو تو ڈسکوز کو خریدے گا کون، حتیٰ کہ اچھی کمپنیوں کو بھی؟

اگست کے اعداد و شمار کاغذ پر نمو دکھاتے ہیں، لیکن فی گھنٹہ پروفائل اور اضافی لاگت ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں: پاکستان کا گرڈ کھپت نہیں کھو رہا، بلکہ اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔

اور اگر فوری اصلاح نہ کی گئی، تو اصل مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ بجلی کیسے جلتی رہے، بلکہ یہ ہوگا کہ کون ایسا ہوگا جو جڑا رہنے پر راضی بھی ہو۔