پاکستان

ای سی سی: ریکوڈک منصوبے کی راہ ہموار، اہم معاہدے منظور

  • وزارت ریلوے کی جانب سے پیش کی گئی سمری بھی منظور، 390 ملین ڈالر مالیت کے ریل ڈیولپمنٹ معاہدے اور پل فنانسنگ کے ذریعے بلوچستان سے معدنیات کی ترسیل کے لیے 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تعمیر کیا جائے گا
شائع September 18, 2025 اپ ڈیٹ September 18, 2025 11:17pm

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعرات کو ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے سے متعلق اہم معاہدوں اور مالی وعدوں کی منظوری دے دی، جس سے منصوبے کے باضابطہ آغاز کی راہ ہموار ہوگئی۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کیے گئے حتمی معاہدوں کی شرائط کی توثیق کی گئی۔

ای سی سی نے ہدایت دی کہ منصوبے کے دوران سامنے آنے والی کسی بھی اہم تبدیلی کو، اگر پروجیکٹ کنسلٹنٹس اس کی تصدیق کریں اور ریکو ڈک مائننگ کمپنی اس کی توثیق کرے، تو دوبارہ کمیٹی سے منظوری لی جائے۔

اجلاس میں وزارتِ ریلوے کی جانب سے پیش کردہ سمری کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت ریل ڈویلپمنٹ معاہدہ اور 390 ملین ڈالر کی برج فنانسنگ شامل ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے بلوچستان سے معدنیات کی ترسیل کے لیے 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تعمیر کیا جائے گا۔

کمیٹی نے مزید ہدایت دی کہ معاہدے کی دستاویزات وزارتِ خزانہ کو جانچ پڑتال کے لیے فراہم کی جائیں اور مارچ 2026 تک عملدرآمد کی پیشرفت رپورٹ بھی پیش کی جائے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ منظوری حکومت کے اُس عزم کی غمازی کرتی ہے جو اس تاریخی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔ انہوں نے ریکو ڈک کو بلوچستان اور ملکی معیشت کے لیے ایک انقلابی موقع قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر کو سامنے لائے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور طویل المدتی سماجی و اقتصادی بہتری کا بھی باعث بنے گا۔

اجلاس میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر خوراکی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر سرمایہ کاری قیسراحمد شیخ سمیت وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں و ریگولیٹرز کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔