غزہ سٹی میں رہائشیوں نے جمعرات کو بتایا کہ شہر کے مرکزی علاقے تک جانے والے دو اہم راستوں پر اسرائیلی ٹینک دیکھے گئے، جبکہ پورے غزہ پٹی میں انٹرنیٹ اور فون لائنیں منقطع کر دی گئیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ زمینی آپریشنز جلد شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
رہائشیوں کے مطابق، اسرائیلی فورسز غزہ سٹی کے مشرقی مضافاتی علاقوں پر قابض ہیں اور حالیہ دنوں میں شیخ رضوان اور تل الحوا علاقوں پر بمباری کر رہی ہیں، جہاں سے وہ مرکزی اور مغربی علاقوں کی جانب بڑھ سکتے ہیں، جہاں زیادہ تر آبادی پناہ لیے ہوئے ہے۔
ایک رہائشی اسماعیل نے بتایا کہ انٹرنیٹ اور فون سروسز کا کٹ جانا برا شگون ہے۔ ہمیشہ یہ کسی بہت سنگین واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ خطرناک طریقے سے ای-سم کا استعمال کر کے فون کنیکٹ کر رہے تھے تاکہ سگنل حاصل ہو سکے۔
اس دوران کم از کم 14 فلسطینی اسرائیلی حملوں یا فائرنگ میں شہید ہوئے، جن میں سے 9 غزہ سٹی میں تھے۔ فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے کہا کہ خدمات بند کی گئی ہیں کیونکہ اہم نیٹ ورک راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ وہ غزہ سٹی میں اپنی کارروائیاں بڑھا رہی ہے اور دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو ختم کر رہی ہے۔ تاہم، فوجی بیان میں ٹینکوں کی نقل و حرکت یا ٹیلی کمیونیکیشن بندش کا ذکر نہیں کیا گیا۔
شیخ رضوان اور تل الحوا میں مقامی رہائشیوں نے ٹینکوں کی سڑکوں پر موجودگی دیکھی اور بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے خودکار گاڑیوں میں دھماکے کرائے، جس سے کئی مکانات تباہ ہوئے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، 55,000 سے زائد لوگ شمالی غزہ سے فرار ہو چکے ہیں، لیکن نصف ملین سے زیادہ لوگ اپنے گھروں یا عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔
غزہ صحت حکام کے مطابق، دو سالہ جنگ میں فلسطینی شھادتوں کی تعداد 65,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ کئی لاشیں ملبے تلے دبیں ہیں۔
اسرائیلی اور حماس کے درمیان جاری جنگ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں اسرائیلی تخمینے کے مطابق 1,200 ہلاک اور 251 افراد اغوا ہوئے۔