روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز ٹیلیفونک گفتگو میں باہمی دوستی اور خوشگوار تعلقات کو سراہا،حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بھارت پر روس کے ساتھ بڑھتے معاشی روابط پر دباؤ جاری ہے۔

روس سے تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث بھارت پر مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کی جانب سے دباؤ بڑھ گیا ہے۔اسی تناظر میں امریکی صدر نے بھارت کی برآمدات پر اضافی تجارتی محصولات عائد کر دیے ہیں۔

مودی اور پوٹن کی بات چیت اُس کے ایک دن بعد ہوئی جب مودی نے صدر ٹرمپ سے یوکرین جنگ اور تجارتی محصولات کے بارے میں گفتگو کی تھی۔

روسی صدر پوٹن نے ٹیلی ویژن پر نشر ایک حکومتی اجلاس میں کہا کہبھارت اور روس کے درمیان تعلقات ہمیشہ انتہائی پُراعتماد اور دوستانہ رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہہم اپنی خصوصی اور ترجیحی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم اور بھارت یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

امریکہ اور یوکرین کی کوشش ہے کہ روس کی توانائی کی برآمدات پر ضرب لگائی جائے،جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ روسی فوج کو مالی مدد فراہم کرتی ہیں اور جنگ جاری رکھنے کا ذریعہ ہیں۔