پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز(پی آئی اے) نے 2025 کی پہلی ششماہی میں ٹیکس سے قبل منافع حاصل کیا ہے،جو کمپنی کے ایک ذرائع کے مطابق تقریباً دو دہائیوں بعد اس عرصے کا پہلا منافع ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب رواں سال کے آخر میں قومی ایئرلائن کی نجکاری کی تیاری کی جارہی ہے۔

پی آئی اے جو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کا حصہ ہے نے جنوری سے جون تک کے 6 ماہ میں قبل از ٹیکس 11.5 ارب روپے (40.64 ملین ڈالر) منافع ریکارڈ کیا۔ اس کے مقابلے میں 2024 کے اسی عرصے میں کمپنی کو قبل از ٹیکس خسارے کا سامنا تھا۔

رواں ششماہی کے لیے ادارے کا خالص منافع 6.8 ارب روپے رہا۔ یہ منافع ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد پی آئی اے کی نجکاری کے نئے منصوبے پر کام کررہا ہے جو پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی اہم شرط ہے۔

کمپنی کے ایک ذرائع کے مطابق سرکاری ایئر لائن کو 2004 کے بعد پہلی بار ایسا منافع ہوا ہے، البتہ 2014 سے پہلے کے مالیاتی ریکارڈ اب عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

قومی ایئر لائن کی یہ مجوزہ نجکاری ملک میں تقریباً 20 سال بعد کسی بڑے سرکاری ادارے کی پہلی نجکاری ہوگی،جب کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری گزشتہ سال کے بیل آؤٹ پروگرام کا بنیادی حصہ تھی۔

برطانیہ کے منافع بخش روٹس

ایندھن اور سروس کے اخراجات اب بھی بوجھ ہیں، تاہم گزشتہ سال اسلام آباد کی جانب سے پی آئی اے کے پرانے قرضوں کا تقریباً 80 فیصد اپنے ذمے لینے کے بعد مالیاتی اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے جس نے کمپنی کو منافع میں واپس آنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔

اس کے باوجود پی آئی اے کی ایکویٹی منفی ہے جو اس کی بحالی کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ادارے کی نجکاری کی ایک کوشش ناکام ہوگئی تھی کیونکہ صرف ایک کم ترین بولی موصول ہوئی تھی لیکن اب حکومت کو 5 بڑے ملکی کاروباری گروپس کی دلچسپی حاصل ہوئی ہے جن میں ایئر بلیو، لکی سیمنٹ، انویسٹمنٹ فرم عارف حبیب اور فوجی فرٹیلائزر شامل ہیں۔ حتمی بولیوں کی توقع رواں سال کے آخر میں کی جارہی ہے۔

برطانیہ نے جولائی میں پاکستانی ایئر لائنز پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم کردی ہے جو 2020 کے حادثے اور پائلٹ لائسنسنگ اسکینڈل کے بعد لگائی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پی آئی اے منافع بخش برطانوی روٹس کے لیے دوبارہ درخواست دے سکے گی۔ یورپی یونین بھی گزشتہ سال کے آخر میں اسی طرح کی پابندی ختم کرچکی ہے۔

پی آئی اے نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ برطانوی پابندی کے باعث اسے سالانہ تقریباً 40 ارب روپے کے آمدنی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ لندن، مانچسٹر اور برمنگھم اس کے سب سے زیادہ منافع بخش روٹس میں شامل تھے۔