چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے امداد کے حصول کی خاطر اقوام متحدہ کے طریقۂ کار کے ذریعے فوری طور پر بین الاقوامی ڈونرز اور ممالک سے رجوع کرے۔
بلاول بھٹو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے میکانزم کے تحت امدادی اپیل میں تاخیر ناقابلِ فہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پیمانے کی آفات کے لیے دنیا بھر میں یہی معمول کا طریقۂ کار ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پچھلے سیلاب کے دوران بھی، جب وہ وزیر خارجہ تھے، یہی اپیل کی گئی تھی، جبکہ 2010 کے سیلاب اور 2005 کے زلزلے میں بھی یہی راستہ اختیار کیا گیا تھا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ’دنیا بھر کے ممالک ایسی آفات کے بعد پہلے 72 گھنٹوں میں یہی طریقہ اپناتے ہیں۔ لاکھوں متاثرین کو اس امداد سے محروم رکھنے کی کوئی جواز تراشی قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور اس عمل کا آغاز کرے۔
بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کے ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پیپلز پارٹی کے مطالبے پر کیا گیا.
تاہم انہوں نے تنقید کی کہ وفاقی حکومت نے اب تک سیلاب زدہ اضلاع، خصوصاً گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بالخصوص جنوبی پنجاب کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ریلیف کا اعلان نہیں کیا۔
انہوں نے اس سے قبل اپنی ایک اور پوسٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، متاثرہ علاقوں کے بجلی کے بل معاف کیے جائیں، بی آئی ایس پی کے ذریعے فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور امداد و معاونت کے لیے بین الاقوامی اداروں سے رجوع کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025