اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین اور اسرائیل کے لیے دو ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور
- قرارداد کے حق میں 142، مخالفت میں 10 ووٹ؛ 12 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کے روز بھاری اکثریت سے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب ”ٹھوس، وقت کے تعین کے ساتھ اور ناقابلِ واپسی اقدامات“ کی حمایت کی گئی ہے۔ یہ اقدام عالمی رہنماؤں کے آئندہ اجلاس سے قبل کیا گیا ہے۔
سات صفحات پر مشتمل یہ اعلامیہ جولائی میں اقوامِ متحدہ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کا نتیجہ ہے، جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ کانفرنس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازعے کا پائیدار حل تلاش کرنا تھا، تاہم امریکہ اور اسرائیل نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
193 رکنی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 142 ووٹ دیے گئے، 10 ممالک نے مخالفت کی جبکہ 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور شدہ قرارداد میں جہاں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے، وہیں غزہ میں عام شہریوں، شہری انفرااسٹرکچر پر اسرائیلی حملوں، محاصرے اور بھوک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ”یہ اقدامات ایک تباہ کن انسانی المیے اور تحفظ کے بحران کا سبب بنے ہیں، جن کی مذمت کی جاتی ہے۔“
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اس قرارداد کو ”حماس کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی“ قرار دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ”آج پہلی مرتبہ اقوامِ متحدہ نے ایک ایسا متن منظور کیا ہے جس میں حماس کو اس کے جرائم پر براہِ راست مذمت کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس سے ہتھیار ڈالنے اور غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔“
قرارداد کو تمام خلیجی عرب ممالک کی حمایت حاصل رہی جبکہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر 8 ممالک نے اس کی مخالفت کی، جن میں ارجنٹینا، ہنگری، مائکرونیشیا، ناورو، پلاؤ، پاپوا نیو گنی، پیراگوئے اور ٹونگا شامل ہیں۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ ”غزہ میں جاری جنگ فوری طور پر ختم ہونی چاہیے“ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی حمایت کی گئی ہے۔
امریکی سفارتکار مورگن اورٹیگس نے قرارداد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ ”یہ قرارداد امن کو فروغ نہیں دیتی، بلکہ حماس کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ ایک غیر سنجیدہ، غلط وقت پر کی گئی تشہیری مہم ہے، جو جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ قرارداد درحقیقت حماس کے لیے ایک تحفہ ہے، جس سے جنگ طویل ہو گئی ہے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچا ہے۔“
اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے بھی قرارداد کو یک طرفہ قرار دیا اور کہا ہے کہ ”اس قرارداد کا اصل فائدہ صرف حماس کو پہنچا ہے۔ جب دہشت گرد خوش ہو رہے ہوں تو سمجھ لیں کہ آپ امن کی نہیں، دہشت کی خدمت کر رہے ہیں۔“