عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ امریکی طلب میں کمی کے خدشات اور عالمی سطح پر رسد میں اضافے کی پیش گوئیاں ہیں۔ اس کمی نے مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات اور یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والے ممکنہ سپلائی خلل کے خدشات کو پسِ پشت ڈال دیا۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کے سودے 30 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 66.07 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 31 سینٹ یا 0.5 فیصد گر کر 62.06 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ جمعرات کو دونوں بینچ مارکس میں بالترتیب 1.7 فیصد اور 2 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔

جمعرات کے روز انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا کہ رواں سال عالمی تیل کی رسد توقعات سے زیادہ بڑھے گی کیونکہ اوپیک پلس یعنی اوپیک اور روس سمیت اس کے اتحادی ممالک پیداوار میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اوپیک نے اپنی رپورٹ میں 2025 اور 2026 کے لیے تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی برقرار رکھی اور کہا کہ عالمی معیشت مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

اوپیک پلس نے اتوار کو اعلان کیا کہ اکتوبر سے پیداوار کے کوٹے مزید بڑھا دیے جائیں گے تاکہ سعودی عرب اپنی مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کر سکے۔ ریفائنری ذرائع کے مطابق سعودی آرامکو کی چین کو خام تیل کی برآمدات اکتوبر میں 1.65 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ جائیں گی جو ستمبر کے 1.43 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ چین کب تک اتنی بڑی مقدار میں تیل خرید پائے گا۔ ساتھ ہی سرمایہ کار روس پر ممکنہ نئی پابندیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ادھر روسی تیل کی آمدنی اگست میں نمایاں کمی سے دوچار ہوئی جبکہ امریکی ذخائر میں بھی 3.9 ملین بیرل کا اضافہ ہوا ہے، جس سے مارکیٹ میں دباؤ بڑھ گیا۔