پاور ڈویژن کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے ابھی تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
9 ستمبر 2025 کو وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا تھا کہ حکومت ان صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرے گی جو تباہ کن سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک اس حوالے سے ہمیں بالا حکام سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔ جب بھی ایسی ہدایت ملے گی تو ہم اس کے مالی اثرات پر کام کریں گے اور آئندہ لائحہ عمل تجویز کریں گے۔
فی الحال، لاکھوں بجلی صارفین سیلاب سے متاثر ہیں اور اپنے بل ادا کرنے کے قابل نہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ چونکہ اس ماہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان آنے والا ہے، اس لیے بجلی کے بلوں میں ریلیف کے معاملے پر ان سے بات ہوسکتی ہے تاکہ آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ تاہم، وزارتِ خزانہ نے ابھی تک آئی ایم ایف وفد کی آمد کی حتمی تاریخ شیئر نہیں کی۔
ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیاں) اپنے نقصانات روزانہ کی بنیاد پر پاور ڈویژن اور پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے ساتھ شیئر کر رہی ہیں۔ یہ کمپنی، جو پہلے پیپکو کے نام سے جانی جاتی تھی، اب نئے نام کے ساتھ ڈسکوز اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تمام معاملات دیکھتی ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ حکومت نے چند ماہ کے لیے صارفین کے بلوں کی ادائیگی مؤخر کردی ہے لیکن بالآخر انہیں بل ادا کرنا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق، پاور سیکٹر اصلاحات کا معاملہ بھی بدھ کے روز وفاقی کابینہ میں زیر بحث آیا، جہاں سے پاور ڈویژن کی ٹیم، جس کی قیادت وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کر رہے ہیں، کو کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025