اسرائیلی فوج نے منگل کے روز غزہ شہر کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا ہے تاکہ ایک نئے فوجی آپریشن کے تحت علاقے کے سب سے بڑے شہری مرکز پر قبضہ کیا جا سکے۔ اس منصوبہ بند کارروائی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس کے اثرات پورے محصور خطے پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
غزہ شہر، جس کی آبادی تقریباً 10 لاکھ ہے، پر قبضہ جنگ بندی کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جنگ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اس وقت غیر مسلح ہوگی جب ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔
عالمی ناقدین کے مطابق اسرائیل کا منصوبہ، جس میں غزہ کو غیر مسلح کر کے سیکیورٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے، پہلے سے قحط کے خطرے سے دوچار 22 لاکھ آبادی کو مزید انسانی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔
امریکا، قطر اور مصر کی ثالثی کوششیں تاحال جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر کوئی پیش رفت نہیں کر سکیں۔ اسرائیل کے مطابق وہ جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ کے 75 فیصد حصے پر قابض ہو چکا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 62,000 سے زائد فلسطینی شہید، لاکھوں بے گھر اور خطے کا بیشتر حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔