پاکستان کے ٹیلی کام آپریٹرز اور جی ایس ایم اے (گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشنز ایسوسی ایشن) نے حکومت سے طویل عرصے سے التوا کا شکار 5G اسپیکٹرم نیلامی کے حوالے سے متعدد مطالبات پیش کر دیے ہیں، تاہم فوری طور پر کسی قسم کی رعایت کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
ان مطالبات میں گزشتہ نیلامی سے کم قیمت پر اسپیکٹرم کی دستیابی، روپے میں ادائیگی کا نظام، 15 سالہ بلاسود قسطوں میں ادائیگی، ڈیوٹی فری آلات اور اسمارٹ فونز کی درآمد شامل ہیں۔ یہ مطالبات پیر کو اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے گئے جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اجلاس کے بعد بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اس وقت کوئی فوری ریلیف دینے کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ جی ایس ایم اے اور ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اسپیکٹرم کے اجرا میں تاخیر سے اگلے پانچ سال میں پاکستان کو 1.8 سے 4.3 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان میں اسپیکٹرم کی قیمت دنیا میں سب سے زیادہ ہے جو آپریٹرز کی آمدنی کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے۔ کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اس بلند لاگت نے سرمایہ کاری کی صلاحیت کو محدود کر رکھا ہے، جس سے صارفین کو سروس کے معیار میں کمی اور حکومت کو طویل المدتی فوائد سے محرومی کا سامنا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے سفارش کی کہ اسپیکٹرم کی قیمت پاکستانی مارکیٹ کے مطابق منصفانہ ہونی چاہیے، فیس کی ادائیگی روپے میں ہو تاکہ زرمبادلہ کے اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے، اور ادائیگی کے طریقہ کار کو لائسنس کی مدت یعنی 20 سال تک پھیلایا جائے۔ مزید برآں پانچ سالہ رعایتی مدت اور 15 سالہ بلاسود قسطوں میں ادائیگی کی سہولت دی جائے۔ ساتھ ہی فائیو جی آلات اور اسمارٹ فونز کی درآمد پر ڈیوٹی فری پالیسی اپنائی جائے، زیر التوا قانونی اور ریگولیٹری تنازعات خصوصاً 2600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر مقدمات حل کیے جائیں اور آپریٹرز کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
سی ای او جاز عامر ابراہیم نے اجلاس میں کہا کہ اسپیکٹرم ہر کال، ہر آن لائن ادائیگی اور ہر آن لائن کلاس روم کے پیچھے پوشیدہ ڈھانچہ ہے۔ اگر پاکستان کو ڈیجیٹل مستقبل کھولنا ہے تو ہمیں ایسی پالیسی اور قیمتوں کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ ہچکچاہٹ پیدا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر انحصار کر رہا ہے، جو خطے کے ممالک کے نصف سے بھی کم ہے اور عالمی معیار سے بہت پیچھے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین کو روزانہ کال منقطع ہونے اور ڈیٹا کی سست رفتار کا سامنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسپیکٹرم کی مناسب اور بروقت نیلامی نہ صرف بہتر سروس فراہم کرے گی بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں شمولیت کو بھی ممکن بنائے گی۔ ان کے مطابق اسپیکٹرم کی بلند قیمت اور بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے سرمایہ کاری محدود ہو رہی ہے، صارفین کو خراب سروس ملتی ہے اور حکومت طویل مدتی فوائد سے محروم رہتی ہے۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ٹیلی کام انڈسٹری اور جی ایس ایم اے کے نمائندوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے مؤثر اسپیکٹرم پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی بہترین تجربات سے استفادہ کرنے کی اہمیت اجاگر کی اور اسپیکٹرم عمل کو بروقت مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ پاکستان ابھرتے ہوئے معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات ٹیکنالوجی شیزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، جی ایس ایم اے ایشیا پیسیفک کے سربراہ جولیان گورمن، متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام اور بڑی موبائل کمپنیوں کے نمائندے شریک ہوئے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025