پاکستان اور بھارت ایک ہی برصغیر سے جنم لینے والے دو وجود ہیں، جن کے دریا، مٹی اور تاریخ مشترک تھی۔ مگر قیامِ پاکستان کے بعد کے 78 برسوں میں، یہ دونوں جوہری طاقتیں وقت کے ساتھ ایک دوسرے سے اس قدر دور ہو چکی ہیں کہ جیسے کسی ایک ساحل سے اُٹھ کر مخالف سمتوں میں بہہ گئی ہوں۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی ایسے مواقع آئے جب دونوں ممالک کے مابین جھڑپیں ایک مکمل ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھیں، مگر یہ بحران اکثر—جیسا کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں، امریکہ کی مداخلت سے ٹل گئے۔ تاہم، گزشتہ تین دہائیوں سے ایک اور جنگ جاری ہے، ایک ایسی جنگ جو سرخیوں سے باہر، مگر نہایت مہلک اور دیرپا ہے: معاشی جاسوسی کی ایک خاموش مگر تباہ کن جنگ۔

دل گرفتہ ہو کر ہم یہ مضمون دنیا کے ضمیر کے نام تحریر کر رہے ہیں، بطور انتباہ اُن کے لیے جو اب بھی یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ آج کی جنگی لکیریں بندوق کی نہیں بلکہ بیلنس شیٹ، فیکٹری کی پیداوار اور پالیسی فائلوں کے ارد گرد کھینچی جا چکی ہیں۔

یہ نظریہ کوئی خیالی بات نہیں۔ بھارتی خفیہ اداروں کے ماہرین کی اسٹریٹیجک سوچ، جسے ”جنوبی ایشیا میں خفیہ کارروائیوں کی جیو پولیٹکس“ جیسے عنوانات کے تحت بیان کیا جاتا ہے، خاص طور پر بی رمن جیسے افراد کی زیر نگرانی، واضح اور سرد لہجے میں ایک ہی بات کہتی ہے: بھارت کو دفاع اور سفارت کاری سے آگے بڑھ کر پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا ہوگا، براہِ راست عوام کو نشانہ بنا کر نہیں، بلکہ اُس بندوبست کو ہلا کر جس پر ریاست کی طاقت قائم ہے: فوج، بیوروکریسی، اور سب سے بڑھ کر معیشت۔

حکمتِ عملی کی کتاب بالکل واضح ہے: نفسیاتی جنگ، جھوٹی معلومات کی مہمات، اور نشانہ بنا کر ایسے حملے جن کا ہدف پاکستان کی نرم اندرونی ساخت ہو—مثلاً کراچی جیسے مالیاتی مراکز، بندرگاہیں، مواصلاتی راستے، اور قومی وقار کی علامت بننے والے بڑے ڈیم۔

مقصد پاکستان کو توڑنا نہیں، بلکہ اس کی معیشت کو مفلوج کرنا، اداروں کو متزلزل کرنا، اور قیادت کو ایسی کشمکش میں مبتلا کرنا ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں بھی بےیقینی کا شکار ہو جائے۔

اگر یہ خفیہ منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے، تو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بکھر جائیں گی، اندرونی عدم اعتماد کی آگ بھڑکے گی، اور عسکری و بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ٹوٹنے لگے گا۔آخری ہدف؟ پاکستان کو اپنی ہی سرزمین پر الجھانا، جب کہ بھارت سفارتی میز پر تحمل اور وقار کا دعویٰ کرتا رہے۔

منگلا اور تربیلا جیسے تاریخی منصوبوں کی کامیابیوں کے بعد، پاکستان کے آبی ذخائر اور ڈیمز کو ایک خفیہ اور منظم معاشی مہم کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارت نے ماحولیاتی اور ماحولیاتی تحفظ کے خوشنما بیانیے اوڑھ کر ایسے کرداروں کو میدان میں اتارا جنہوں نے پاکستان میں ڈیمز کے خلاف رائے عامہ کو گمراہ کیا، وہی ڈیم جو کبھی ترقی کی علامت تھے، انہیں ماحولیاتی تباہی کا نشان بنا کر پیش کیا گیا۔

سچائی مگر بالکل برعکس ہے: ہائیڈرو پاور صرف 23 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) فی کلو واٹ آور کے حساب سے کاربن خارج کرتا ہے، جو کہ سولر (48 گرام) سے بھی صاف، اور گیس (490 گرام) و کوئلہ (820 گرام) سے کہیں بہتر ہے۔ صرف صاف توانائی ہی نہیں، بلکہ ڈیمز آبپاشی، سیلاب سے تحفظ اور توانائی میں خود کفالت کی ضمانت بھی فراہم کرتے ہیں۔

پھر بھی، جھوٹے بیانیے غالب آ گئے، پاکستان نہ صرف سستی توانائی سے محروم ہوا، بلکہ خود انحصاری، استحکام اور مستقبل کے تحفظ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

1990 کی دہائی سے اسلام آباد میں ایک چمکدار مہم نے یہ تاثر پھیلایا کہ ڈیم ماحول دشمن ہیں، ہائیڈرو پاور ایک ”گندی“ توانائی ہے، اور بڑے آبی منصوبے نوآبادیاتی ورثہ ہیں۔ یہ لسانی حملہ بظاہر نظریاتی تھا، مگر عملی طور پر اس نے پاکستان کو درآمدی گیس اور تیل کی راہ پر دھکیل دیا۔

نتیجہ؟ پاکستان کے گیس کے ذخائر تیزی سے ختم ہوئے، ہائیڈرو منصوبے تاخیر یا التوا کا شکار ہوئے، اور ملک کی توانائی کی ترسیل کا نظام مہنگے درآمدی ایندھن کے رحم و کرم پر آ گیا۔

آج ہم تقریباً 40 ارب ڈالر کے گردشی قرضوں (سرکلر ڈیٹ) کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جب کہ ایل این جی ( LNG) کی درآمد پر، ہم دعویٰ کرتے ہیں، 50 ارب ڈالر خرچ ہو چکے، صرف روشنیوں کو جلائے رکھنے کے لیے۔ذرا تصور کریں: اگر 1990 کی دہائی میں ہائیڈرو پاور کے منصوبے وقت پر مکمل ہو جاتے، تو آج پاکستان اپنی زیادہ تر توانائی کی ضروریات صاف، پائیدار اور مقامی وسائل سے پوری کر سکتا تھا، اور شاید یہ مالیاتی زخم کبھی نہ کھلتے۔

ٹیکسٹائل کے محاذ پر بھی جنگ کم خونریز نہ تھی۔ جو ملک کبھی کپاس برآمد کرتا تھا، آج سالانہ 2 ارب ڈالر سے زائد کی کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک ”مقامی لارنس آف عربیا“ نے کپاس کے مسئلے کو صرف زرعی بحران نہیں بلکہ اخلاقی بحران میں بدل دیا۔

دریں اثناء ماحولیاتی بیانیے کو ایک تلوار میں ڈھال دیا گیا۔ ہیٹ ویوز، بےترتیب بارشیں، سیلاب اور خشک سالی جیسے مظاہر کو بطور ثبوت پیش کیا گیا کہ کپاس اب ایک قابلِ عمل فصل نہیں رہی۔ سفید مکھی اور گلابی سنڈی جیسے کیڑوں کے حملوں کو نمایاں کیا گیا؛ کپاس کی ”زیادہ پانی استعمال کرنے والی“ فصل کے طور پر کردار کشی کی گئی، یہاں تک کہ کئی اضلاع خاموشی سے گنے کی کاشت کی طرف مائل ہو گئے،حالانکہ گنا دنیا کی ان فصلوں میں شامل ہے جو سب سے زیادہ پانی نگلتی ہیں۔

یوں ہم نے ایک ایسی ریشہ جاتی فصل سے منہ موڑا جو نہ صرف ہماری مقامی صنعت کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، بلکہ برآمدی صلاحیت بھی رکھتی تھی، اور اس کے بدلے میں وہ فصل اختیار کی جو زیرِ زمین پانی کو کہیں زیادہ تیزی سے ختم کرتی ہے، برآمد سے کم زرمبادلہ دیتی ہے، اور ہمیں خوراک، پانی اور توانائی کے تین طرفہ بحران میں اور بھی گہرا دھکیل دیتی ہے۔

دوسری طرف بھارت کی اُن ریاستوں میں جو پاکستان سے متصل ہیں، راجستھان، مشرقی پنجاب اور گجرات، کپاس کی پیداوار کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ تو کیا ماحولیاتی تبدیلی صرف سرزمینِ پاک ہی کو نشانہ بنا رہی ہے؟

بھارت نے معاشی جاسوسی اور اپنے مقامی سہولت کاروں کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کو ہتھیار بنا کر پاکستان کی دو اہم شہ رگوں، کپاس اور آبی توانائی، پر ضرب لگائی۔ کپاس کو ”ناقابلِ عمل“ قرار دیا گیا، آبی توانائی کو ”ماحولیاتی تباہی“ کا سبب ٹھہرایا گیا، اور پالیسی سازوں کو اس قدر گمراہ کیا گیا کہ انہوں نے اپنی اصل طاقتوں سے خود ہی دستبرداری اختیار کر لی۔

جب سازش کا جال مکمل ہوا، تو عالمی قیمتوں کے جھٹکوں نے کاشتکاروں کا گلا گھونٹ دیا، قرضے اور تحقیق کی کمی نے جدت کی راہیں بند کر دیں، اور پروپیگنڈے نے جھوٹے ”حل“ پیش کیے—کپاس سے ہٹ کر فصلیں اپناؤ، ڈیمز پر انحصار کم کرو، اور کھوکھلی ”موسمیاتی مزاحمت“ کے پیچھے بھاگو۔

جو کچھ ”ترقی پسند“ دکھایا گیا، دراصل وہی سب سے بڑا تخریب کاری کا منصوبہ تھا: پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو منظم انداز میں ختم کیا گیا، یہاں تک کہ ہم نہ صرف مہنگی ایل این جی بلکہ ریشہ جاتی خام مال کے لیے بھی درآمدات پر انحصار کرنے لگے۔

اس تیز دھار تلوار کو جِس چیز نے مسلسل تیز رکھا، وہ ، ہماری نظر میں ”ریگولیٹری کیپچر“ ( وہ عمل جس میں نگران ادارہ اپنی ذمہ داری چھوڑ کر، اُن کاروباری یا سیاسی طاقتوں کے قابو میں آ جاتا ہے جنہیں اسے کنٹرول کرنا چاہیے، اور عوام کے بجائے انہی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔) تھا۔ وقت کے ساتھ ایک مخصوص لابی کا اثر ریاست کے حساس ترین اداروں تک جا پہنچا، نیپرا (بجلی کا نگران ادارہ)، اوگرا (تیل و گیس کا نگراں)، اور اس سے آگے بھی،جہاں ٹیکنیکل معیار، ٹیرف کے اصول، اور خریداری کے فیصلے خاموشی سے پوری قوم کی قسمت کا رخ موڑ سکتے تھے۔

کہیں کوئی خریداری روک دی گئی، کہیں ماحولیاتی اعتراض اٹھا دیا گیا؛کہیں ”عارضی ٹیرف“ کو مستقل بنا دیا گیا؛ کہیں پبلک انٹرسٹ کے خلاف کیپیسٹی چارج ازسرِنو طے ہوا؛ کہیں معیار میں معمولی سی تبدیلی نے مقامی انجینئرنگ کو باہر کر دیا؛ کہیں کسی ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ کو اتنی دیر کے لیے روک دیا گیا کہ عالمی ایندھن مارکیٹ مہنگی ہو گئی۔

یہ سب واقعات ظاہری طور پر معمولی لگ سکتے ہیں، مگر مجموعی طور پر تباہ کن ہیں۔ یہی تھا وہ ”ٹروجن ہارس“ جسے ہم پہچان نہ سکے، مشورے کے نام پر داخل ہونے والا اثر، جو آخرکار پالیسی پر چھا گیا، ہر جگہ۔

ہم صرف بیرونی ہاتھوں کی چالاکی پر نہیں، بلکہ اندرونی طور پر دی جانے والی رضامندی پر بھی سوگوار ہیں، چاہے وہ شعوری تھی یا لاشعوری۔ اس کی قیمت ناقابلِ بیان ہے: ٹیکسٹائل کا شعبہ، جو اب غیر ملکی کپاس مہنگے داموں خرید کر اپنی مارجن کھو رہا ہے؛ توانائی کا نظام، جو سستی پن بجلی سے محروم ہو کر ایندھن کے جھٹکوں کا شکار ہے؛اور ایک خودمختار ریاست، جو اب وہ ڈالرز ادا کر رہی ہے جو وہ برآمدات سے کماتی ہی نہیں، کیونکہ اُس کی برآمدی ریڑھ کی ہڈی ہی توڑ دی گئی ہے۔

پاکستان، جو ایک وقت میں پانی سے بجلی اور کپاس سے زرمبادلہ حاصل کرنے کے دہانے پر تھا—آج ایندھن اور خام کپاس کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔

عالمی برادری سے ہمارا سوال ہے کہ جس طرح آپ نے ماضی میں ایٹمی جنگ سے بچاؤ کے لیے مداخلت کی، کیا اب آپ ان خفیہ معاشی حملوں کا نوٹس لیں گے جو کسی گولی کے بغیر ملکوں کو تباہ کر سکتے ہیں؟

پاکستان کو سانس لینے دیا جائے، معاشی جاسوسی کی چالاکیوں سے آزاد، بغیر تعصب کے۔ شاید پاکستان کے پاس ان حملوں کو روکنے کی مکمل صلاحیت نہ ہو، لیکن ہمیں اتنا موقع ضرور دیا جائے کہ ہم: جدید آبی ذخائر تعمیر کر سکیں، توانائی، آبپاشی، اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے؛کپاس کی پیداوار بحال کر سکیں؛ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات کو مضبوط بنا سکیں، نہ کہ غیر یقینی۔

ہمارے نگران ادارے، نیپرا، اوگرا اور دیگر، کو خفیہ اثرورسوخ سے پاک کر کے شفافیت کی بنیاد پر دوبارہ تعمیر کیا جانا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر وہ مقامی کردار جس نے اس تخریب کاری میں سہولت کاری کی، اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، کیونکہ اس نے ایک جوہری ریاست کے خلاف معاشی جنگ چھیڑی۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025