افغانستان کے مشرقی پہاڑی علاقوں میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 1400 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے متاثرین کے لیے خوراک، رہائش اور طبی امداد کی فراہمی کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
اتوار کی رات افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہر میں آنے والے 6 ریکٹر کے زلزلے کے بعد منگل کو دوسرا 5.5 ریکٹر کا جھٹکا آیا جس سے ریسکیو کارروائیاں متاثر ہوئیں۔
کنڑ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ احسان اللہ احسان کے مطابق ہیلی کاپٹرز کے اترنے کے قابل نہ ہونے والے مقامات پر کمانڈو فورسز کو ہوائی ذریعے سے اتارا جا رہا ہے تاکہ زخمیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔
طالبان انتظامیہ کے مطابق زلزلے میں 1411 افراد جاں بحق، 3124 زخمی اور 5400 سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملبے میں دبے ہونے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
غریب ملک ہونے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے وسائل محدود ہیں جبکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی محدود امداد موصول ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق بارشوں سے غیر مستحکم ہونے والی زمین اور غیر معیاری تعمیرات نے زلزلے کے اثرات میں اضافہ کیا ہے۔
بین الاقوامی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کے ڈاکٹر فضل ہادی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کی تعداد زیادہ تھی جو زلزلے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔
افغانستان میں ہندوکش پہاڑی سلسلے کے قریب زلزلے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جہاں انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں۔