روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اگست میں ہونے والی سربراہی ملاقات میں طے پانے والے افہام و تفہیم نے یوکرین میں امن کی راہ ہموار کی ہے، جس پر وہ چین میں ہونے والے ایک علاقائی اجلاس کے دوران دیگر رہنماؤں سے بات کریں گے۔

کیف اور اس کے مغربی اتحادی روس کے فروری 2022 میں شروع ہونے والے حملے کو علاقہ ہتھیانے کی نوآبادیاتی جنگ قرار دیتے ہیں، جبکہ ماسکو اسے یوکرین کو غیر فوجی اور ڈی نازیفائی کرنے کے لیے ایک خصوصی فوجی آپریشن کہتا ہے۔

پیوٹن، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے رہنما صدر شی جن پنگ کی میزبانی میں چین کے شہر تیانجن میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہیں۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ یوکرین بحران کے حل میں چین اور بھارت کی کوششوں اور تجاویز کو ہم بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ روس۔امریکا ملاقات میں الاسکا میں ہونے والے افہام و تفہیم بھی اس مقصد میں مددگار ثابت ہوں گے۔

پیوٹن نے بتایا کہ وہ صدر شی جن پنگ کو اتوار کے روز ہی ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی کامیابیوں اور جاری پیش رفت سے آگاہ کر چکے ہیں اور دوطرفہ ملاقاتوں میں مزید تفصیل بیان کریں گے۔ ان کے مطابق یوکرین تنازع کا دیرپا حل اسی وقت ممکن ہے جب اس کے بنیادی اسباب، خصوصاً نیٹو میں شمولیت کے مغربی دباؤ کو دور کیا جائے۔