باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارت صنعت و پیداوار کو تقریباً ایک دہائی پرانے کیس سے نمٹنے کے لیے کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی ہے جو ایم/ایس کونسٹن لمیٹڈ کے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے خلاف 15 ملین ڈالر کے مبینہ دعوے سے متعلق ہے۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی خزانے کو مزید مالی نقصان سے بچانے کے لیے اس کیس کا فوری، منصفانہ اور مؤثر بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے حل نکالا جائے۔
ذرائع کے مطابق یہ کیس ایم/ایس کونسٹن لمیٹڈ کے مبینہ 15 ملین ڈالر کے دعوے سے متعلق ہے، جس کے باعث پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز ایم وی چترال اور ایم وی حیدرآباد کو 2017 میں جنوبی افریقہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں، حکومت پاکستان کی یقین دہانی پر سیکیورٹی جمع کروا کر جہاز رہا کرائے گئے۔
وزارت بحری امور نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو آگاہ کیا کہ حکومت نے ماضی میں پی این ایس سی کو 14 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ادائیگی کی تھی، تاہم اب پی این ایس سی نے قانونی کارروائی اور انشورنس پریمیم کی مد میں مزید 33 کروڑ 5 لاکھ روپے کے اخراجات کئے ہیں، جس کی ادائیگی لازمی ہو چکی ہے۔ پی این ایس سی کے مطابق اگر کیس کا فیصلہ اسٹیل ملز کے خلاف آتا تو جمع شدہ ایک کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی سیکیورٹی ضبط ہو سکتی تھی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے 2023 میں ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے متعدد اجلاسوں کے بعد تجویز دی کہ ایم/ایس کونسٹن کے ساتھ 60 لاکھ سے 1.1 کروڑ ڈالر کے درمیان تصفیہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں وزارت بحری امور نے کابینہ ڈویژن کو سمری ارسال کی، تاہم بار بار وزارت خزانہ سے رائے لینے کی ہدایت کی گئی۔ وزارت خزانہ نے اصولی طور پر اخراجات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی، البتہ فوری طور پر وزارت بحری امور کو اپنے بجٹ سے اخراجات پورے کرنے کا کہا۔
پی این ایس سی کے مطابق جون 2025 تک 2 لاکھ 90 ہزار ڈالر کا اضافی پریمیم بھی واجب الادا ہو چکا ہے۔ مجموعی طور پر ادارہ اب تک 47 کروڑ 95 لاکھ روپے کے اخراجات برداشت کر چکا ہے۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور فوری فیصلے کی ضرورت ہے تاکہ قومی اداروں کو مزید نقصان نہ ہو۔
معاشی رابطہ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد وزارت بحری امور کی تجویز منظور کرلی اور 33 کروڑ 5 لاکھ روپے کی رقم بطور تکنیکی ضمنی گرانٹ موجودہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں جاری کرنے کی منظوری دی۔ مزید برآں، ای سی سی نے وزارت بحری امور کو ہدایت دی کہ وہ تین ماہ کے اندر پیش رفت رپورٹ پیش کرے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اس موقع پر زور دیا کہ بین الاقوامی ثالثی میں فوری اور منصفانہ پیش رفت ناگزیر ہے تاکہ قومی خزانے کو مزید مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025