منڈیاں اب بھی حالات کو پُرسکون سمجھ کر فیصلے کر رہی ہیں، مگر کیا وہ طوفان کو نظر انداز کر رہی ہیں؟ فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کو برطرف کرنے کی کوشش اب محض ٹرمپ طرزِ سیاست کی ایک اور جھلک نہیں رہی۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ فیڈ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی آمادگی موجود ہے، اور اس کے اثرات واشنگٹن سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔
دنیا کے بااثر ترین مرکزی بینک کی خودمختاری اگر کمزور ہوتی ہے، تو اس کے نتیجے میں امریکی قرضوں کی قیمت، ڈالر کی پائیداری اور عالمی سرمائے کے بہاؤ کا ڈھانچہ، سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ اور یہ ماننا درست ہے کہ اس ”شاک اینڈ آ“، امریکی عسکری اصطلاح (ایسا فوری، شدید اور حیران کن اقدام جو مخالف کو حواس باختہ کر دے اور مزاحمت کی صلاحیت ختم کر دے)، کی حکمتِ عملی کے پیچھے موجود سخت گیر شخصیت ان تمام نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں، اور اسے کوئی پروا نہیں۔
یہ کہنا تو محض رسمی سی بات ہے کہ اگر امریکی معیشت اور مالیاتی منظرنامے کا اثر دنیا بھر کی منڈیوں پر براہِ راست نہ ہوتا، کسی پر فوری، کسی پر بتدریج، تو شاید یہ معاملہ اتنا حساس نہ ہوتا۔
عقیدے اور اعتبار کے جس ستون پر دہائیوں سے ڈالر نے عالمی ریزرو کرنسی کا درجہ سنبھالا ہوا ہے، وہ صرف امریکہ کی معاشی حجم کا مرہونِ منت نہیں بلکہ اس کی ادارہ جاتی ساکھ کا نتیجہ ہے۔ فیڈ کی خودمختاری پر حملہ اس ساکھ (اعتماد) کی بنیادیں ہلا سکتا ہے، اور ان ہی بازاروں میں سوالات اٹھا سکتا ہے جو خود پیسے کی قیمت طے کرتے ہیں۔ اگر سرمایہ کار امریکی ٹریژریز پر زیادہ رسک پریمیم مانگنے لگیں، تو اس کے جھٹکے کرنسی، اسٹاک اور کموڈیٹی مارکیٹ، سب میں محسوس ہوں گے۔
یہ کوئی مفروضہ نہیں، بانڈ مارکیٹ پہلے ہی ابتدائی ردِعمل دینا شروع کر چکی ہے۔ ٹریژری ییلڈز، امریکی حکومت کے قرضوں (ٹریژری سیکورٹیز) پر ادا کیے جانے والے منافع (ریٹرن) کی شرح، میں ایک مختصر مگر مختصر مدت کے لیے نمایاں اضافہ ہوا، جس میں بعد میں کچھ حد تک کمی بھی دیکھی گئی، لیکن فارورڈ کروز ( یعنی سود کی شرح کی مستقبل کی متوقع ترتیب) کی نئی قیمتیں مارکیٹ کی بڑھتی بے چینی کا پتہ دیتی ہیں۔ سرمایہ کار ستمبر میں شرحِ سود میں کمی کے حق میں پوزیشن لے رہے ہیں، مارکیٹ کا جھکاؤ ستمبر میں فیڈ کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی طرف ہے، اور سی ایم ای فیڈ واچ (جو فیوچرز مارکیٹ سے حاصل کردہ امکانات ظاہر کرتا ہے) کے مطابق اس کی ممکنہ شرح 86 سے 87 فیصد کے درمیان ہے، لیکن مانیٹری پالیسی کے گرد بڑھتی ہوئی سیاسی بےیقینی نے خاص طور پر ڈیویٹو مارکیٹس میں محتاط حکمت عملی کو جنم دیا ہے۔
دنیا بھر کی مثالیں خبردار کرتی ہیں۔ ترکی میں سیاسی دباؤ کے تحت شرح سود کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کی ضد نے مارچ 2024 میں اچانک 500 بیسس پوائنٹس کے غیر معمولی اضافے کو جنم دیا، یہ اس اعتماد کے تیزی سے ختم ہونے کی ایک روشن مثال ہے جس پر سرمایہ کاری کھڑی ہوتی ہے۔ ارجنٹینا میں انتظامی مداخلت اور معاشی غیر یقینی کی تاریخ اب بھی بانڈ اور کرنسی مارکیٹوں پر بھاری پڑی ہے۔ اور خود بھارت میں، جہاں کبھی ریزرو بینک کی خودمختاری کو سراہا گیا، دسمبر 2018 میں گورنر اُرجت پٹیل کی پالیسی خودمختاری پر حکومت سے ٹکراؤ کے بعد اچانک استعفیٰ نے ادارے کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
منڈیاں بخوبی جانتی ہیں کہ مرکزی بینک کی خودمختاری محض ایک طرزِ حکمرانی کا اصول نہیں، بلکہ قیمتوں کے تعین کا بنیادی میکنزم ہے۔جب پالیسی سازی کو معاشی اعداد و شمار کے بجائے سیاسی مجبوریوں کے تابع سمجھا جائے، تو سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ نتیجے کی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ یہ غیر یقینی سرمایہ کاری کی لاگت کو بڑھا دیتی ہے، کرنسی کو غیر مستحکم کرتی ہے اور خود مانیٹری پالیسی کے نفاذ پر بھرپور عملدرآمد کو متاثر کرتی ہے۔
امریکی منظرنامے کی سنگینی کا اصل پہلو اس کا دائرۂ اثر ہے۔ ترکی یا ارجنٹینا کے برعکس، امریکی ٹریژری بانڈز کو دنیا بھر میں خطرے سے پاک منافع (رسک فری ریٹڑن) کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس معیار پر اعتماد میں دراڑ آتی ہے، تو تمام مالیاتی اثاثہ جات کی قیمتوں کا توازن متاثر ہوتا ہے۔
ڈالر کی نام نہاد ”امتیازی عالمی مالیاتی حیثیت“ (ایکزوربیٹنٹ پریولج) کا انحصار اس تصور پر ہے کہ اسے سنبھالنے والے ادارے اپنی ادارہ جاتی نظم و ضبط پر کاربند رہیں گے۔ اگر یہ مفروضہ کمزور پڑتا ہے، تو سرمائے کی لاگت پوری دنیا میں بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی اور نازک معیشتوں میں۔
پاکستان جیسی معیشتوں کے لیے یہ ایک ناپسندیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔ یہاں پالیسی سازوں کو بارہا بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک کی خودمختاری غیر ملکی سرمایہ کو راغب کرتی ہے، مہنگائی سے متعلق توقعات کو قابو میں رکھتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کرتی ہے۔ مگر اگر واشنگٹن خود فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کو قربانی کا بکرا بنا دے، تو چھوٹی معیشتیں کیوں اس قیمت پر اس اصول پر کاربند رہیں؟ یہ سوال اس وقت اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب آئی ایم ایف پروگراموں کی شرائط میں ایسی ہی اصلاحات کو لازمی قرار دیا جائے۔
فی الحال عالمی منڈیاں ٹرمپ کو فائدہ پہنچانے کے مفروضے پر چل رہی ہیں۔ اتار چڑھاؤ کے اشاریے (والا ٹیلیٹی انڈائسز) نسبتاً پرسکون ہیں، امریکی اسٹاک مارکیٹیں اب بھی اپنی بلند ترین سطحوں کے آس پاس تجارت کر رہی ہیں، ڈالر انڈیکس پچھلے سال کی بلند ترین سطح سے نیچے آیا ہے، مگر یہ کمی اداروں کی کمزوری کے خوف کے بجائے چیئرمین پاول کے نسبتاً نرم رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ لیکن یہ خاموشی، اعتماد سے زیادہ انکار (ڈینیل) لگتی ہے۔ دراڑیں واضح ہو رہی ہیں، مگر ان کی قیمت ابھی مارکیٹ میں شامل نہیں کی گئی۔
کرنسی مارکیٹوں میں بےچینی نمایاں ہونے لگی ہے۔ یورو/ڈالر کی شرح 1.15 سے اوپر ہے، جو ایک کمزور ڈالر اور مختلف مرکزی بینکوں کی متضاد پالیسیوں کے امکانات کی غمازی کرتی ہے۔
جاپانی ین نے اس سال اب تک تقریباً 6 فیصد تقویت حاصل کی ہے، حالانکہ جاپان کی شرحِ سود میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ تلاش کر رہے ہیں؛ اور آپشن مارکیٹ میں سرگرمی میں تیزی آئی ہے، صرف کینیڈین ڈالر آپشنز کا حجم 200 فیصد سے زائد بڑھ چکا ہے،جو ظاہر کرتا ہے کہ تاجر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر خطرے سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
خطرے کے پریمیم کمزور معیشتوں، بشمول پاکستان، میں بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ درآمدی محصولات کے اثرات کو شامل کیے بغیر ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے یورپی اور چینی درآمدات پر وسیع پیمانے پر نئی ڈیوٹی عائد کرنے کی تازہ دھمکیاں فیڈ کے لیے پالیسی کی راہ مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
اگر درآمدی لاگت بڑھنے کے سبب مہنگائی میں تیزی آتی ہے، تو چیئرمین پاول کے لیے شرحِ سود میں کمی کی گنجائش محدود ہو جائے گی، جس سے ایک جانب ایکویٹی مارکیٹ کے پرجوش سرمایہ کار مایوس ہوں گے،جبکہ دوسری جانب کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو تقویت ملے گی۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ متضاد اشارے ہیں: ایک طرف سست ہوتی نمو، دوسری طرف برقرار رہنے والی مہنگائی۔
منڈیاں سیاسی شور کو اس وقت تک برداشت کر سکتی ہیں جب تک پالیسی کا فریم ورک پیش گوئی کے قابل رہے۔ لیکن وہ دنیا کے آخری قرض دہندہ میں غیر یقینی کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ اگر ٹرمپ فیڈ کی خودمختاری کی حدود کو چیلنج کرتے رہے، تو سرمایہ کار ہر ڈالر سے منسلک اثاثے میں انتظامی مداخلت کے خطرے کو شامل کرنے لگیں گے۔ یہ وقتی اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ ڈھانچہ جاتی قیمت نو ہو گی۔
بظاہر منڈیاں پُرسکون دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس سکوت کے نیچے حرکیات بدل رہی ہیں۔ حالیہ ٹریژری بانڈ نیلامی میں مضبوط مانگ برقرار رہی، تاہم دیگر اشاریے تشویش پیدا کر رہے ہیں: محفوظ اثاثوں کی طلب میں اضافہ نمایاں ہے۔ سونا دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے،جس کی پشت پر سیاسی غیر یقینی اور کمزور ڈالر کے باعث سرمایہ کاروں کی بےچینی ہے۔ یورو اور ین کے لیے تین ماہ کے کراس-کرنسی بیسِس سویپس نمایاں طور پر پھیل چکے ہیں اور 2023 کے اواخر کے بعد سے سب سے زیادہ منفی سطح پر ہیں، جو عالمی سطح پر قرض دہندگان کے لیے ڈالر میں مالیاتی دباؤ کی علامت ہے۔
خطرہ یہ ہے کہ یہ رجحان خود کو تقویت دینے والا سائیکل بن جائے۔جتنا زیادہ فیڈ غیر متوقع دکھائی دے، اتنے ہی زیادہ سرمایہ کار حفاظتی اقدامات کرتے ہیں اور یوں عالمی لیکویڈیٹی مزید محدود ہوتی جاتی ہے۔ایسے وقت میں جب ابھرتی ہوئی معیشتیں، جیسے پاکستان، ڈالر میں مالیاتی رسائی کی سب سے کم سکت رکھتی ہیں، ان کے لیے قرض لینے کی لاگت مزید بڑھ رہی ہے۔ ایسا سرمایہ، جو ایکویٹیز یا انفرااسٹرکچر میں لگ سکتا تھا، اب نقد میں محفوظ کیا جارہا ہے یا ٹھوس اثاثوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ ترقی سست پڑتی ہے، کرنسیاں کمزور ہوتی ہیں اور اندرونی کمزوریاں مزید بڑھ ہو جاتی ہیں۔
ٹرمپ اور فیڈ کے درمیان کشمکش محض ایک داخلی سیاسی منظر نہیں،بلکہ عالمی مالیاتی نظام کی ساخت میں ایک دراڑ ہے۔ ڈالر کی مرکزیت اعتماد پر قائم ہے اور اعتماد ادارہ جاتی حدود کی مضبوطی پر منحصر ہے۔ اگر یہ حدود کمزور پڑتی ہیں، تو قیمت نو صرف امریکی اثاثوں تک محدود نہیں رہے گی، یہ عالمی سطح پر لیکویڈیٹی، قیمتوں اور سرمائے کے بہاؤ کو اپنے ساتھ کھینچ لے گی۔
منڈیاں اس سے پہلے بھی سیاسی خطرے کو کم اہم جان کر غلطی کر چکی ہیں۔ ممکن ہے وہ یہ غلطی پھر سے دہرا رہی ہوں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025