پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو مندی کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینج مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔
مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 149,237.92پوائنٹس کی بلند سطح پرجاپہنچا۔ بعد ازاں پرافٹ ٹیکنگ کے باعث تیزی کے اثرات زائل ہوگئے جس سے ایک موقع پر 100 انڈیکس 147,337.02 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 941 پوائنٹس یا 0.63 فیصد کی کمی سے 147,494.03پوائنٹس پر بند ہوا۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے تجزیہ کاروں نے مندی کی وجہ شمالی علاقوں میں شدید سیلاب کی خبروں کے بعد دوسرے سیشن میں سرمایہ کاروں میں پھیلنے والے خوف کو قرار دیا ہے۔
بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق بھارت نے بدھ کو مقبوضہ کشمیر میں دریاؤں پر موجود بڑے ڈیموں کے تمام گیٹس کھول دیے جن کی وجہ بھاری بارشیں تھیں اور پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے خطرے سے آگاہ کیا۔
پاکستان نے اس انتباہ کے بعد تین دریاؤں کے لیے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا جو بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔
شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں حریف ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو اہم انڈیکسز نیچے آنے سے اسٹاک ایکسچینج میں منفی اختتام ہوا تھا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 380.24 پوائنٹس یا 0.26 فیصد کی کمی سے 148,435.06 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی مارکیٹیں بدھ کو نسبتاً مستحکم رہیں کیونکہ سرمایہ کار نیوڈیا کی آمدن کی رپورٹ کے منتظر ہیں، جو قلیل مدتی رسک سینٹیمنٹ کے لیے اہم ہوگی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کمزور رہا کیونکہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر حملوں سے پریشان ہیں۔
امریکی ٹریژری ییلڈ کَرو میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کو فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کو برطرف کرنے کے حکم کے بعد۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جو ممکنہ قانونی لڑائی کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ کُک کی وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ برطرفی کے خلاف مقدمہ دائر کریں گی۔
ٹرمپ بارہا پاؤل اور پالیسی سازوں پر تنقید کر چکے ہیں کہ وہ شرح سود میں کمی نہیں کر رہے۔ مارکیٹ مبصرین نے گزشتہ ہفتے پاؤل کے بیانات کو شرح سود میں ممکنہ کمی کا اشارہ قرار دیا ہے۔
سرمایہ کار اب اگلے ماہ شرح سود میں کمی کی توقع کر رہے ہیں، اور ٹریڈرز نے ستمبر میں فیڈ کے ریٹ کم کرنے کے 84 فیصد امکانات کو قیمتوں میں شامل کر لیا ہے، جبکہ جون تک 100 بیسس پوائنٹس سے زائد کمی کی توقع ہے۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپشنز ٹریڈرز نیوڈیا کی آمدنی رپورٹ کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 260 بلین ڈالر کی تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔ چین میں نیوڈیا کے کاروبار پر خاص توجہ ہوگی کیونکہ کمپنی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک غیر معمولی منافع کی تقسیم کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ کے درمیان نیوڈیا کے چینی بزنس کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں بڑی معیشتیں ٹیرف مذاکرات اور چِپ ٹریڈ کی پابندیوں پر کہاں کھڑی ہوتی ہیں۔
اسی وجہ سے سرمایہ کار بڑے فیصلے کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) صرف 0.2 فیصد بڑھا، جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً بغیر تبدیلی کے رہا، جبکہ تائیوان کے شیئرز 0.6 فیصد اوپر گئے۔
چین کے بلیو چِپ اسٹاکس 0.3 فیصد بڑھے اور ہفتے کے اوائل میں تین سالہ بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے۔ چین میں حالیہ دنوں میں ٹیک سیکٹر کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔