امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز درآمدی فرنیچر پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ اس شعبے پر ایک بڑی تفتیش شروع کرنے جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ”ہم فرنیچر کی درآمدات پر بڑا ٹیرف انویسٹی گیشن کر رہے ہیں، جو آئندہ 50 دن میں مکمل ہو جائے گا۔“
ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف کی شرح کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تاہم انہوں نے اس اقدام کو امریکہ کے فرنیچر انڈسٹری کو شمالی اور جنوبی کیرولائنا اور مشی گن جیسے ریاستوں میں دوبارہ زندہ کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 تک امریکہ میں فرنیچر اور متعلقہ مصنوعات کی تیاری میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کام کر رہے تھے، جو سال 2000 کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے 2024 میں 25.5 ارب ڈالر مالیت کا فرنیچر درآمد کیا، جس میں چین اور ویتنام بڑے ذرائع ہیں۔ ٹرمپ کا یہ اعلان اس سال اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوز سمیت دیگر مصنوعات پر بھاری ڈیوٹیاں عائد کرنے کے بعد ایک اور مخصوص شعبے کو ہدف بنانے کی تازہ مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی تفتیشی کارروائیاں عام طور پر مہینوں پر محیط ہوتی ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر لگنے والے ٹیرف قانونی طور پر زیادہ مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔