پاکستان

جولائی ایف سی اے، سی پی پی اے-جی کی بجلی کی نرخ میں فی یونٹ 1.70 روپے کمی کی درخواست

  • نیپرا نے اس حوالے سے 28 اگست 2025 کو عوامی سماعت مقرر کردی، جس میں سی پی پی اے-جی سے مزید وضاحت طلب کی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی – گارنٹیڈ(گیارنٹیڈ) (سی پی پی اے-جی) نے جولائی 2025 کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں فی یونٹ 1.70 روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ(کمی) کی درخواست دی ہے تاکہ صارفین کو پورے ملک میں، بشمول کے-الیکٹرک، 23 ارب روپے واپس کیے جا سکیں۔

نیپرا نے اس حوالے سے 28 اگست 2025 کو عوامی سماعت مقرر کی ہے جس میں سی پی پی اے-جی سے مزید وضاحت طلب کی جائے گی اور صارفین کے نمائندوں کو ایف سی اے ایڈجسٹمنٹ کے اعداد و شمار پر اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے گا۔

جمع کروائے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2025 میں ہائیڈل جنریشن 5,668 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) رہی جو کل پیداواری صلاحیت کا 40.13 فیصد ہے۔

مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 1,503 جی ڈبلیو ایچ (10.64 فیصد) رہی، جس کی قیمت 11.3477 روپے فی یونٹ تھی۔درآمدی کوئلے سے 1,140 جی ڈبلیو ایچ بجلی پیدا ہوئی جس کی لاگت 14.4986 روپے فی یونٹ رہی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) سے کوئی پیداوار نہیں ہوئی، البتہ فرنس آئل (آر ایف او) سے 108 جی ڈبلیو ایچ بجلی پیدا ہوئی جس کی قیمت 31.0533 روپے فی یونٹ تھی۔گیس سے بجلی کی پیداوار 1,093 جی ڈبلیو ایچ (7.74 فیصد) رہی جس کی لاگت 13.3791 روپے فی یونٹ تھی۔درآمدی ایل این جی (آر ایل این جی) سے 2,438 جی ڈبلیو ایچ (17.26 فیصد) بجلی پیدا ہوئی جس کی لاگت 22.0310 روپے فی یونٹ تھی۔جوہری ذرائع سے 1,405 جی ڈبلیو ایچ (9.95 فیصد) بجلی پیدا ہوئی جس کی لاگت 2.4210 روپے فی یونٹ تھی۔ایران سے درآمد کی گئی بجلی 36 جی ڈبلیو ایچ رہی جس کی لاگت 24.1492 روپے فی یونٹ تھی۔

سی پی پی اے-جی نے بیگاس سے بجلی کی پیداوار کے اعداد و شمار شامل نہیں کیے تاہم 348 ملین روپے ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دی ہے۔ اس سے قبل بیگاس کے نرخ تقریباً 5 روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 9.8651 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے تھے۔

ونڈ انرجی سے بجلی کی پیداوار 592 جی ڈبلیو ایچ (4.19 فیصد) ریکارڈ کی گئی۔

کل پیداوار جولائی 2025 میں 14,123 جی ڈبلیو ایچ رہی جس پر لاگت 109.894 ارب روپے (یعنی 7.7811 روپے فی یونٹ) آئی۔

تاہم، اس میں 3.883 ارب روپے پچھلی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں (0.2750 روپے فی یونٹ)، 1.923 ارب روپے منفی ایڈجسٹمنٹ بطور سیل ٹو آئی پی پیز اور 409 جی ڈبلیو ایچ ٹرانسمیشن لاسز شامل کرنے کے بعد تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فراہم کی گئی خالص بجلی 13,666 جی ڈبلیو ایچ ریکارڈ ہوئی جس کی فی یونٹ لاگت 8.1848 روپے رہی۔

سی پی پی اے-جی کے مطابق، چونکہ جولائی 2025 میں پیداوار کی لاگت 8.1848 روپے فی یونٹ رہی جو ریفرنس ریٹ 9.8758 روپے فی یونٹ سے کم ہے، لہٰذا 1.6911 روپے فی یونٹ منفی ایڈجسٹمنٹ صارفین کے تمام کیٹیگریز کے لیے منظور کی جائے۔

مزید برآں، پاور ڈویژن نے اپنے 20 اگست 2025 کے خط میں بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 19 اگست 2025 کو اپنے اجلاس میں اس معاملے پر پالیسی گائیڈلائنز دی ہیں، جن میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

1 . ملک بھر میں یکساں ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے، نیپرا ڈسکوز کے ایف سی اے کا اطلاق کے-الیکٹرک صارفین پر بھی کرے۔2. کے-الیکٹرک صارفین کے لیے بھی وہی ٹیرف ریشنلائزیشن مقرر کی جائے جو ڈسکوز صارفین کے لیے کی جائے، اور اسی مدت کے لیے لاگو ہو۔3. اگر ایف سی اے کی شرح میں کے-الیکٹرک اور ڈسکوز کے درمیان فرق آئے تو وہ سبسڈی یا کراس سبسڈی کے ذریعے کے-الیکٹرک کو فراہم کیا جائے۔4. یکساں ایف سی اے کا اطلاق ڈسکوز کے جون 2025 کے ایف سی اے (بلنگ ماہ اگست 2025) سے شروع ہوگا۔

پاور ڈویژن نے یہ بھی کہا ہے کہ معاملے کی ہنگامی نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور اس توقع کے ساتھ کہ نیپرا ایف سی اے کا عمل شروع کرے گا، ای سی سی کے فیصلے نیپرا کو مزید کارروائی کے لیے پہنچا دیے گئے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025